نئے ڈومیسٹک سیزن میں ڈیپارٹمنٹس کی فیس میں 200 فیصد اضافہ
لاہور ۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ 27-2026 کا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن اگست میں شروع ہوگا جبکہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ٹورنامنٹس کا آغاز بھی گزشتہ دو سیزنز کے برعکس دسمبر یا جنوری کے بجائے اب ستمبر میں ہوگا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی پی سی بی نے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے لیے سالانہ شرکت کی فیس میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بورڈ نے تمام ڈیپارٹمنٹس کو ایک خط ارسال کیا ہے تاہم پی سی بی نے اس کی تفصیلات پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا البتہ خط کے مندرجات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت 2026-27 سیزن میں گریڈ ون ڈیپارٹمنٹس کو سالانہ ایک کروڑ 50 لاکھ روپے شرکت فیس ادا کرنا ہوگی جو 2025 میں 50 لاکھ روپے اور 2024 میں 30 لاکھ روپے تھی۔ اس طرح گزشتہ سال کے مقابلے میں فیس میں 200 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔
اسی طرح گریڈ ٹو گولڈ میں شامل ڈیپارٹمنٹس کے لیے سالانہ فیس 42 لاکھ روپے جبکہ گریڈ ٹو سلور کے لیے 40 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
ڈیپارٹمنٹل ڈھانچے میں چار ٹورنامنٹس شامل ہیں جن میں چار روزہ فرسٹ کلاس پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون، لسٹ اے پریذیڈنٹ کپ اور تین روزہ پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو گولڈ اور گریڈ ٹو سلور شامل ہیں۔
فیس میں اضافے کے ساتھ نئی پالیسی کے تحت پی سی بی کو ڈیپارٹمنٹل کرکٹ پر پہلے سے کہیں زیادہ اختیارات بھی حاصل ہو جائیں گے۔
ان اختیارات میں کھلاڑیوں کی کم از کم تنخواہ مقرر کرنا، 12 ماہ کے معاہدے لازمی قرار دینا، فٹنس ٹیسٹنگ کرانا، گیسٹ پلیئرز کی تقسیم کا نظام طے کرنا، میچ فیس، یومیہ الاؤنس اور رہائش کے معیار مقرر کرنا، جبکہ ٹیموں کی تشکیل سے متعلق قواعد نافذ کرنا شامل ہیں۔ نئی پالیسی کے مطابق ہر ٹیم کے لیے انڈر-21 کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرنا بھی لازمی ہوگا۔
آٹھ ٹیموں پر مشتمل پریذیڈنٹ ٹرافی اور پریذیڈنٹ کپ کو اس سیزن میں مزید اہمیت حاصل ہوگی خصوصاً آٹھ ٹیموں پر مشتمل ون ڈے ٹورنامنٹ پریذیڈنٹ کپ اس لیے بھی اہم ہوگا کہ اسے 2027 کے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاری کا اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس سیزن میں پہلی مرتبہ متعارف کرایا جانے والا گیسٹ پلیئر کا تصور قومی ٹیم اور سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے زیادہ میچ کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
ترقی اور تنزلی کے نظام کے تحت فیصل آباد میں حال ہی میں مکمل ہونے والی پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو سلور کی فائنلسٹ دونوں ٹیمیں اگلے سیزن میں گریڈ ٹو گولڈ میں کھیلیں گی جبکہ گریڈ ٹو گولڈ کی آخری دو ٹیمیں سلور ڈویژن میں تنزلی کا شکار ہوں گی۔
دوسری جانب جاری پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو گولڈ کے فائنل میں ایم آئی ٹی سلوشنز اور کنگزمین اکیڈمی کے درمیان مقابلے کی فاتح ٹیم ستمبر میں شروع ہونے والی پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں ترقی حاصل کرے گی جبکہ گزشتہ ایڈیشن کی آخری پوزیشن پر رہنے والی ٹیم گریڈ ٹو گولڈ میں چلی جائے گی۔
شرکت کی فیس میں غیر معمولی اضافے کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا تمام ڈیپارٹمنٹس نئے مالی بوجھ کے ساتھ اپنی ٹیمیں برقرار رکھ سکیں گے یا نہیں؟۔
ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی حالیہ تاریخ بھی خاصی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ 2019-20 میں اسے ختم کرکے چھ ٹیموں پر مشتمل ریجنل ماڈل متعارف کرایا گیا تھا تاہم 2024 میں پی سی بی کے 2014 کے آئین کی بحالی کے بعد ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بھی دوبارہ بحال کر دی گئی تھی۔
اب یہ نظام دوبارہ شروع ہوئے صرف دو برس ہوئے ہیں، شرکت کی لاگت چار گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے ایسے وقت میں جب کئی ادارے ابھی تک اپنے کرکٹ پروگرام دوبارہ منظم کرنے کے مرحلے میں ہیں۔
2019 میں ریجنل ماڈل کے نفاذ کے بعد کئی بڑے اداروں نے اپنی کرکٹ ٹیمیں ختم کر دی تھیں جن میں یونائیٹڈ بینک، مسلم کمرشل بینک، حبیب بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک، نیشنل بینک، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ۔ ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ بینک آف پاکستان ۔ پی ڈبلیو ڈی اور پاکو شامل تھے۔
26-2025کی پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں حصہ لینے والی آٹھ ٹیموں میں غنی گلاس۔ کے آر ایل۔ اوجی ڈی سی ایل۔ پی ٹی وی اسٹیٹ بینک ایس این جی پی ایل ساحر ایسوسی ایٹس اور واپڈا شامل ہیں۔



Leave a Reply