URDUعلی عثمان کی 5 وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے باوجود انگلینڈ کی 195 رنز کی برتری

علی عثمان کی 5 وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے باوجود انگلینڈ کی 195 رنز کی برتری

لیڈز ۔ لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان کی پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے باوجود انگلینڈ نے ہیڈنگلے ٹیسٹ کے دوسرے دن  اپنی پہلی اننگز میں 8  وکٹوں کے نقصان پر 366  رنز بناکر  پہلی اننگز میں 195 رنز کی برتری حاصل کرلی ہے  اور ابھی اس کی 2 وکٹیں باقی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیم پہلی اننگز میں  171 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔

دوسرے دن کے کھیل کی نمایاں بات ہیری بروک ، کپتان جو روٹ ، جارڈن کاکس اور ڈین لارنس کی  نصف سنچریوں  کے ساتھ ساتھ علی عثمان کی پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی تھی۔

بارش اور خراب موسم کی وجہ سے دوسرے دن کا کھیل مقررہ وقت سے پونے چار گھنٹے تاخیر سے شروع ہوسکا۔ جو روٹ  ( 27 ) اور جارڈن کاکس (  23 ) نے 112 رنز  2 کھلاڑی آؤٹ کے اسکور پر  اننگز شروع کی اور  اپنی پارٹنرشپ کو  تین ہندسوں میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کرلیں۔

کاکس  اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد 73 رنز بناکر علی عثمان کی گیند پر رضوان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ اس اننگز میں 14 چوکے شامل تھے۔ انہیں  57 رنز پر اسوقت چانس ملا تھا جب خرم شہزاد اپنی ہی گیند پر ان کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔

کاکس اور روٹ نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 150 رنز کا اضافہ کیا۔

جو روٹ اپنے ہوم گراؤنڈ پر  10چوکوں کی مدد سے 66 رنز بناکر خرم شہزاد کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ انہوں نے 68 ویں نصف سنچری بناکر سچن تندولکر کی نصف سنچریوں کی برابری کرلی ہے لیکن درحقیقت ان کی نظریں ٹیسٹ کرکٹ میں سچن تندولکر کے سب سے زیادہ  15921 رنز پر لگی ہوئی ہیں جن سے آگے نکلنے کے لیے  وہ اب صرف 1742 رنز کی دوری پر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس وقت سچن تندولکر کی 51  اور ژاک کیلس کی 45 سنچریوں کے بعد رکی پونٹنگ کے ساتھ 41 سنچریاں بناکر مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر ہیں۔

ہیری بروک پر قسمت مہربان رہی کہ ایک رن  پر خرم شہزاد کی گیند پر سلمان علی آغا نے سلپ میں ان کا کیچ ڈراپ کردیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ 13 چوکوں کی مدد سے  91 رنز بنانے میں کامیاب ہوگئے تاہم علی عثمان نے انہیں بولڈ کرکے   11 ویں سنچری اسکور کرنے کا موقع نہیں دیا۔

جو روٹ کی طرح بروک کا بھی ہیڈنگلے ہوم گراؤنڈ ہے۔

ہیری بروک  اور ڈین لارنس  پانچویں وکٹ کی شراکت میں 120  رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔

دوسال بعد انگلینڈ کی ٹیم میں جگہ بنانے والے لارنس  9 چوکوں کی مدد سے 51 رنز بناکر علی عثمان کی گیند پر  رضوان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔یہ ان کی 5 ویں نصف سنچری ہے۔

علی عثمان نے گس اٹکنسن کو 3 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرنے کے بعد اگلی ہی گیند پر اولی رابنسن کو بھی بولڈ کردیا تاہم جوفرا آرچر نے انہیں ہیٹ ٹرک نہیں کرنے دی۔

جب کھیل ختم ہوا تو جیمی اسمتھ  16  اور  جوفرا آرچر صفر پر ناٹ آؤٹ تھے۔

لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان23  اوورز میں 92  رنز کے عوض 5  وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے لیکن  فاسٹ بولرز متاثرکن بولنگ نہ کرسکے۔

خرم شہزاد  نے 19  اوورز میں  سب سے زیادہ 111 رنز دیے۔ محمد علی کے 19 اوورز میں 89 رنز بنے ۔

محمد عباس  کے 21 اوورز میں  سب سے کم  61  رنز بنے ہیں۔

پاکستان کی فیلڈنگ بھی غیرمتاثر کن رہی  جس میں دو ڈراپ کیچز اور لارنس کو رن آؤٹ کا  یقینی موقع ضائع کرنا نمایاں تھے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.