URDUبنگلہ دیش کی آسٹریلیا کے خلاف تاریخی جیت ، پاکستان کے لیے کیا سبق موجود ؟

بنگلہ دیش کی آسٹریلیا کے خلاف تاریخی جیت ، پاکستان کے لیے کیا سبق موجود ؟

پاکستان گزشتہ 29 برس سے آسٹریلیا میں ٹیسٹ کی فتح کی تلاش میں ہے لیکن دوسری جانب بنگلہ دیش کو یہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف تین کوششیں درکار ہوئیں۔

یہ فرق محض اعدادوشمار کا ایک دلچسپ اتفاق نہیں ہے۔ ڈارون میں آسٹریلیا کے خلاف بنگلہ دیش کی 9 وکٹوں سے فتح ایسی ٹیم کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے جو اب بھی ٹیسٹ کرکٹ کی مستحکم اور بڑی ٹیموں میں اپنی شناخت مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ نتیجہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ کیا کچھ ممکن تھا مگر حاصل نہ ہو سکا۔

دنیا میں 9 ویں نمبر پر موجود بنگلہ دیش نے آسٹریلیا میں اپنا صرف تیسرا ٹیسٹ کھیلا جبکہ 23 سال بعد وہاں اسے دوبارہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ اس کے باوجود اس نے عالمی نمبر ایک رینکنگ کی ٹیم کو ساڑھے تین دن تک مکمل طور پر آؤٹ کلاس کیے رکھا۔ یہ فتح اتفاقاً نہیں ملی بلکہ بنگلہ دیش نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ، مزاحمت سے بھرپور بیٹنگ اور سب سے بڑھ کر برتری حاصل کرنے کے بعد بھی آسٹریلیا پر دباؤ برقرار رکھنے کے اطمینان اور حوصلے کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔

ٹاس ہارنے کے بعد بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو 53 اوورز میں 198 رنز پر آؤٹ کیا، پھر جواب میں 138 اوورز میں 426 رنز بنائے۔ پہلی اننگز میں 228 رنز کی برتری نے آسٹریلیا کے لیے غلطی کی کوئی خاص گنجائش نہیں چھوڑی۔ بنگلہ دیش نے دوسری اننگز میں بھی آسٹریلیا کو 95.1 اوورز میں 284 رنز پر آؤٹ کردیا اور 57 رنز کا ہدف صرف 14.2 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

نتیجہ حیران کن تھا لیکن جس انداز میں یہ کامیابی حاصل کی گئی وہ اس سے بھی زیادہ اہم تھا۔

ڈارون آسٹریلیا کے لیے بھی ٹیسٹ کرکٹ کا کوئی بہت معروف مقام نہیں۔ 2003 کے بعد یہ اس وینیو پر صرف تیسرا ٹیسٹ تھا۔ اس سے قبل یہاں بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ اور 2004 میں سری لنکا کے خلاف ایک میچ کھیلا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے لیے حالات اس سے بھی کم حوصلہ افزا تھے۔ چند روز قبل اسی گراؤنڈ پر اسے کرکٹ آسٹریلیا الیون نے صرف 54 رنز پر آؤٹ کردیا تھا، جہاں بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کیمبل تھامسن نے آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

اس تاریخی فتح کے بعد بنگلہ دیش کا ردعمل خاصا پُرسکون رہا۔ کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، آٹوگراف دیے اور سیلفیاں بنوائیں لیکن طویل جشن یا غیرضروری جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا۔ کوچ فل سیمنز خاموشی سے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے رہے جبکہ ان کے کھلاڑی کامیابی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ مہدی حسن میراز اور کپتان نجم الحسن شانتو بھی میچ کے بعد انتہائی پرسکون نظر آئے۔ دونوں نے ٹیم کی تیاری، حکمت عملی پر عملدرآمد اور ان معیار کو برقرار رکھنے پر بات کی جنہیں اب ٹیم کے لیے قائم رکھنا ضروری ہے۔

یہ تحمل محض میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو تک محدود نہیں تھا۔ یہ دراصل اس کردار کی عکاسی تھا جو بنگلہ دیش نے پورے ٹیسٹ کے دوران دکھایا۔

کئی برسوں تک بنگلہ دیش کی کرکٹ کو میدان میں نتائج کے ساتھ ساتھ جذباتی لمحات سے بھی پہچانا جاتا رہا ہے۔ ’’ناگن ڈانس‘‘، کھلاڑیوں کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے اور میدان میں جھڑپیں بھی اس کی عوامی شناخت کا حصہ بن گئی تھیں لیکن ڈارون میں اسی شدت کو ایک مختلف انداز میں استعمال کیا گیا۔ سیمنز اور شانتو کی قیادت میں بنگلہ دیش ایک منظم واضح مقصد رکھنے والی اور اپنی صلاحیتوں پر پُراعتماد ٹیم دکھائی دی۔

آسٹریلیا میں ٹیسٹ فتح کو ایک غیرمعمولی کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے لیکن زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش اب اس طرح کی کارکردگی کی بنیادیں تیار کرچکا ہے؟

بنگلہ دیش کی بیٹنگ زیادہ قابلِ اعتماد ہوئی ہے، بیرونِ ملک اس کا فاسٹ بولنگ اٹیک زیادہ مؤثر نظر آ رہا ہے جبکہ اسپن کے وسائل بدستور اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں شامل ہیں۔ شانتو ایک حکمتِ عملی پر عبور رکھنے والے کپتان کے طور پر نکھر رہے ہیں جبکہ سیمنز نے ڈریسنگ روم میں تجربہ اور بظاہر واضح سمت فراہم کی ہے۔

اب چیلنج یہ ہے کہ ڈارون کی فتح کو دورے کا عروج نہیں بلکہ ایک نئے رجحان کا آغاز بنایا جائے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں آسٹریلیا میں پاکستان کا تجربہ ایک تلخ تقابل پیش کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس کھلاڑی بھی رہے ہیں اور مواقع بھی۔ جو چیز شاذونادر ہی میسر آئی وہ آخری قدم تھا۔

پاکستان نے 1977 میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی۔ اس کے بعد 1979 اور 1981 میں میلبرن میں کامیابی حاصل کی، جبکہ 1994 میں سڈنی میں ایک بار پھر آسٹریلیا کو شکست دی۔ آسٹریلیا میں یہی پاکستان کی آخری ٹیسٹ فتح ثابت ہوئی۔

اس کے بعد نام بدل گئے، کپتان بدل گئے، کوچز بدل گئے اور نسلیں بھی تبدیل ہوگئیں لیکن کہانی نہیں بدلی۔

1999 میں ہوبارٹ ٹیسٹ میں پاکستان نے 369 رنز کا ہدف دیتے ہوئے آسٹریلیا کو 126 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم کردیا تھا۔ جسٹن لینگر ایک متنازع ناٹ آؤٹ فیصلے کے بعد بچ گئے اور 127 رنز بنا ڈالے۔ ایڈم گلکرسٹ نے ناقابلِ شکست 149 رنز بنائے اور دونوں نے 238 رنز کی شراکت قائم کرکے آسٹریلیا کو فتح دلا دی۔

پاکستان نے آسٹریلیا کو وہیں پہنچا دیا تھا جہاں وہ چاہتا تھا لیکن فیصلہ کن وار نہ کرسکا۔

گیارہ سال بعد سڈنی میں ایک اور موقع آیا۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں 206 رنز کی برتری حاصل کی لیکن آسٹریلیا نے شاندار واپسی کرتے ہوئے دوسری اننگز میں 381 رنز بنائے۔ پاکستان کے سامنے صرف 176 رنز کا ہدف تھا۔ اس نے تین وکٹوں پر 77 رنز بھی بنا لیے مگر پھر پوری ٹیم 139 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

2016 میں برسبین میں فرق مزید کم تھا۔ 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان 450 رنز پر آؤٹ ہوگیا۔ اسد شفیق نے آسٹریلیا میں کسی پاکستانی بیٹر کی چوتھی اننگز کی بہترین انفرادی کوششوں میں سے ایک کرتے ہوئے 137 رنز بنائے۔ پاکستان 173 رنز پر پانچ وکٹیں گنوا چکا تھا، لیکن شفیق کی جوابی جارحیت نے اسے ایک ناقابلِ یقین فتح سے صرف 40 رنز دور پہنچا دیا۔

اور 2023 کے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں میلبرن میں پاکستان نے آسٹریلیا کو دوسری اننگز میں صرف 16 رنز پر چار وکٹوں سے محروم کردیا۔ آسٹریلیا نے سنبھلتے ہوئے 262 رنز بنائے اور پاکستان کو 317 رنز کا ہدف دیا۔ مہمان ٹیم 219 رنز پر پانچ وکٹوں کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں تھی لیکن پھر 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ آخری تین وکٹیں بغیر کوئی رن بنائے گر گئیں۔

چار مختلف ادوار۔ چار مختلف ٹیمیں۔ چار مختلف مواقع۔نتیجہ ایک جیسا ہی رہا۔

یقیناً ہر شکست کی اپنی الگ وجوہات تھیں۔ آسٹریلیا کی مزاحمت ایک وجہ ہے جبکہ پاکستان کا دباؤ مسلسل برقرار نہ رکھ پانا دوسری۔ کہیں ناقص فیصلے سامنے آئے تو کہیں توجہ یا عملدرآمد میں کمی ہوئی۔ 29 سال کی ناکامی کو صرف ایک خامی سے جوڑنا حد سے زیادہ سادہ تجزیہ ہوگا لیکن بنیادی حقیقت سے فرار ممکن نہیں: پاکستان نے بارہا خود کو ایسی پوزیشن میں پہنچایا جہاں آسٹریلیا میں ٹیسٹ فتح ممکن تھی مگر پھر وہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔

یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی کامیابی پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ بنگلہ دیش نے صرف آسٹریلیا کو شکست نہیں دی بلکہ اسے ملنے والے موقع کو کامیابی میں تبدیل کیا اور جب پاکستان کے خلاف اس کا حالیہ ریکارڈ سامنے رکھا جائے تو یہ تقابل مزید تکلیف دہ ہوجاتا ہے۔

2001 سے 2021 تک دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 13 ٹیسٹ میں پاکستان نے 12 میں کامیابی حاصل کی جبکہ ایک میچ ڈرا ہوا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش نے مسلسل چار ٹیسٹ جیتے ہیں 2024 میں پاکستان میں دو اور 2026 میں اپنی سرزمین پر دو ٹیسٹ ۔توازن ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوچکا ہے۔

نتائج کی ایک سیریز ایشیائی کرکٹ کی درجہ بندی میں مستقل تبدیلی ثابت نہیں کرتی اور نہ ہی ڈارون کی ایک فتح بنگلہ دیش کو مکمل ٹیسٹ ٹیم بنا دیتی ہے لیکن مجموعی نتائج یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان وہ فرق اب باقی نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔

بنگلہ دیش کی ترقی راتوں رات نہیں ہوئی۔ اسکول کرکٹ، عمر کے مختلف گروپس کی کرکٹ، ڈومیسٹک ڈھانچے اور بیرونِ ملک تجربے پر بڑھتی ہوئی توجہ نے اس سفر میں کردار ادا کیا ہے۔ ملک کی موجودہ قیادت بھی نچلی سطح پر کرکٹ کو وسعت دینے اور ڈومیسٹک انفراسٹرکچر بہتر بنانے کی بات کھلے عام کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اس وقت تجربات کے ایک دور سے گزر رہا ہے جہاں ڈومیسٹک ڈھانچے میں تبدیلیاں ، کھلاڑیوں کے کامبی نیشن اور قیادت اور سپورٹ اسٹاف میں مسلسل تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنگلہ دیش نے اپنے تمام مسائل حل کرلیے ہیں یا پاکستان مستقل طور پر اپنی سمت کھو چکا ہے۔ پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ ایسی کسی حتمی رائے کی اجازت نہیں دیتی لیکن دونوں ٹیموں کے سفر کی سمت قابلِ غور ضرور ہے۔

بنگلہ دیش کے لیے اگلا چیلنج مستقل مزاجی ہے۔

22 اگست کو میکے میں دوسرا ٹیسٹ شروع ہونے پر آسٹریلیا کے پاس جواب دینے کا موقع ہوگا۔ بنگلہ دیش کو شاید یہ احساس ہو کہ آسٹریلیا کو ایک مرتبہ شکست دینا اس کے خلاف مسلسل مسابقتی ٹیم بننے سے کہیں آسان ہے۔ لیکن وہ پہلے ہی ایک ایسی حقیقت ثابت کرچکا ہے جسے اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ وہ اب بڑی ٹیسٹ ٹیموں کی بحث میں شامل ہونے کا حقدار ہے۔

اس نے دکھا دیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سفر کرسکتا ہے، دباؤ برداشت کرسکتا ہے اور دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم کو اس کے اپنے میدان میں شکست دے سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے سبق قدرے تلخ ہے۔

اسے یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ آیا اس کے پاس آسٹریلیا کو شکست دینے کے لیے کافی ٹیلنٹ موجود ہے۔ پاکستان کے پاس کئی دہائیوں سے یہ صلاحیت موجود رہی ہے۔ اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس صلاحیت کو کامیابی میں تبدیل کرنے میں بار بار ناکامی کیوں ہوئی اور بنگلہ دیش جو کبھی ٹیسٹ کرکٹ کا مستقل انڈر ڈاگ سمجھا جاتا تھا اب مواقعوں کو نتائج میں تبدیل کرنے میں مسلسل کیوں کامیاب ہورہا ہے؟

بنگلہ دیش نے دکھا دیا ہے کہ کیا کچھ ممکن ہے۔ پاکستان کا چیلنج یہ یقینی بنانا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان فرق آئندہ ایسی تلخ حقیقت نہ بن جائے جسے نظرانداز کرنا اس کے لیے مزید ممکن نہ رہے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.