شان مسعود مطلوبہ نتائج نہ دے سکے، بابراعظم سے سلیکٹرز کو بڑی امیدیں وابستہ
لاہور ۔ قومی سلیکشن کمیٹی کے ارکان عاقب جاوید مصباح الحق اور اسد شفیق نے بابراعظم کو پاکستان کا ٹیسٹ کپتان بنائے جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے لیے بابر اعظم سلیکشن کمیٹی کا متفقہ انتخاب تھے اور اس حوالے سے کسی دوسرے نام پر غورنہیں کیا گیا۔
شان مسعود کو کپتانی سے ہٹائے جانے کے بارے میں سلیکٹرز کا کہنا ہے کہ شان مسعود کو مسلسل مطلوبہ نتائج نہ دینے کی وجہ سے تبدیل کیا گیا۔
عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ جب سلیکشن کمیٹی نے شان مسعود کی جگہ نئے کپتان کے انتخاب پر غور کیا تو تمام اراکین کی رائے متفقہ طور پر بابر اعظم کے حق میں تھی۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں تسلسل بہت اہم ہوتا ہے۔ جیسے فیصلوں میں تسلسل ضروری ہے ویسے ہی کارکردگی میں بھی تسلسل ہونا چاہیے۔ اگر آپ ایک خاص عرصے تک مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں تو پھر اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کے حوالے سے صرف ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کے اسٹرائیک ریٹ پر سوالات تھے لیکن انہوں نے پی ایس ایل 2026 میں اپنی کارکردگی میں واضح بہتری دکھائی اور ثابت کیا کہ وہ اب بھی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اہم کھلاڑی ہیں تاہم ہمیں پاکستان ٹیم کے مجموعی کامبی نیشن کو دیکھنا ہوگا اور یہ بھی کہ کوچز انہیں کس کردار میں زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں۔
مصباح کا کہنا تھا کہ بابر اعظم ون ڈے کرکٹ میں غیر معمولی ریکارڈ رکھتے ہیں جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں انہیں اپنی کارکردگی میں کچھ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں وہ ایک اہم اور مستقل مزاج کھلاڑی ہیں جو تینوں فارمیٹس میں پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کس فارمیٹ میں ٹیم کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوں گے اور انہیں وہ اعتماد دینا ہوگا جس کی بدولت وہ ماضی جیسی کارکردگی دوبارہ دکھا سکیں۔
عاقب جاوید نے شان مسعود کو کپتانی سے ہٹائے جانے کے بارے میں کہا کہ دو تین ایسے مسائل کا سامنا تھا جنہیں حل نہیں کیا جا رہا تھا۔
ہم سب، چاہے وہ کھلاڑی ہوں یا سلیکٹرز، اپنی ذمہ داریاں رکھتے ہیں لیکن کپتان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے جن سے ٹیم میچ جیت سکے۔ اسی طرح اوور ریٹ برقرار رکھنا، ڈی آر ایس کے درست فیصلے کرنا اور ٹاس کے وقت صحیح حکمت عملی اختیار کرنا بھی کپتان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
شاہین شاہ آفریدی کو اسکواڈ میں شامل نہ کیے جانے کے سوال پر عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیم کا انتخاب ہر دورے کی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے ہمیں ایسی فاسٹ بولنگ درکار تھی جو ان کنڈیشنز کے مطابق ہو۔ کوئی بھی فیصلہ مستقل نہیں ہوتا۔ شاہین بلاشبہ ایک بہترین بولر ہیں اور کسی بھی کھلاڑی کے کریئر پر لکیر نہیں کھینچی جا سکتی۔ جن فاسٹ بولرز کو ان دونوں دوروں کے لیے منتخب کیا گیا ہے انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے اور انہیں میرٹ پر موقع دیا گیا ہے۔
مصباح الحق نے کہا کہ شاہین اور نسیم کو شامل نہ کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں کافی عرصے سے چار روزہ فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیل رہے۔ اس بار ترجیح ان فاسٹ بولرز کو دی گئی ہے جنہوں نے ڈومیسٹک سیزن میں چار روزہ کرکٹ کھیلی اور اچھی کارکردگی دکھائی۔ یہی اصول نعمان علی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب ہمیں ان کے تجربے کی ضرورت ہوگی تو ہم ضرور انہیں استعمال کریں گے۔
صرف کپتان کو ہٹانے اور سلیکشن کمیٹی کے استعفی نہ دینے کے بارے میں عاقب جاوید نے کہا کہ مصباح الحق اور سرفراز احمد صرف چھ ماہ پہلے سلیکشن کمیٹی میں شامل ہوئے ہیں جبکہ وہ اور اسد شفیق تقریباً ڈیڑھ سال سے یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اس عرصے میں پاکستان کی کارکردگی خراب رہی ہے تو وہ آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ملتان میں انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز سے لے کر اب تک تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی کارکردگی کے اعداد و شمار دیکھیں، پھر وہ خوشی سے اس بحث کے لیے تیار ہوں گے کہ آیا واقعی ان ڈیڑھ سال میں یہ پاکستان کی بدترین کارکردگی تھی یا نہیں۔



Leave a Reply