URDUکپتان اور کوچ کا نئی ُامید کے ساتھ آغاز لیکن ویسٹ انڈیز سخت حریف

کپتان اور کوچ کا نئی ُامید کے ساتھ آغاز لیکن ویسٹ انڈیز سخت حریف

تاروبا ( ویسٹ انڈیز ) پاکستان کرکٹ ٹیم ایک نئی ُامید کے ساتھ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز شروع کرنے والی ہے۔ پہلا ٹیسٹ 25 جولائی سے برائن لارا اکیڈمی تاروبار میں شروع ہورہا ہے یہ گراؤنڈ پہلی بار ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا اس گراؤنڈ پر پاکستان ٹیم ون ڈے سیریز کھیل چکی ہے جو میزبان ٹیم نے دو ایک سے جیتی تھی۔ دوسرا ٹیسٹ 2 اگست سے پورٹ آف اسپین میں کھیلا جائے گا۔

یہ امید اس نے کپتان بابراعظم اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد سے وابستہ کررکھی ہے۔ بابراعظم شان مسعود کی جگہ دوسری مرتبہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنائے گئے ہیں جبکہ سرفراز احمد کی بطور ہیڈ کوچ یہ دوسری ٹیسٹ سیریز ہے۔

یہ دونوں ایک دوسرے کی قیادت میں کھیلنے کے بعد اب کپتان اور ہیڈ کوچ کے کردار کو اچھی طرح نبھانے کے لیے ُپر ُامید ہیں۔

بابراعظم سرفراز احمد کی قیادت میں 12 ٹیسٹ میچ کھیل چکےہیں جن میں انہوں نے ایک سنچری اور 7 نصف سنچریوں کی مدد سے799 رنز بنائے تھے۔

اسی طرح سرفراز احمد نے بابراعظم کی کپتانی میں 4 ٹیسٹ کھیلے جن میں ایک سنچری اور 3 نصف سنچریوں کی مدد سے367 رنز اسکور کیے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان کافی ہم آہنگی رہی ہے تاہم دونوں کے لیے ویسٹ انڈیز اور پھر انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سخت چیلنج ہیں۔ ویسٹ انڈیز نے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ایک صفر سے جیتی ہے جو2022 میں زمبابوے کے خلاف کامیابی کے بعد اس کی پہلی ٹیسٹ سیریز جیت ہے۔ اس دوران وہ سات ٹیسٹ سیریز ہارچکی تھی۔

سری لنکا کے خلاف سیریز میں کپتان روسٹن چیز۔ عامر جانگو اور جسٹن گریوز کی بیٹنگ نمایاں رہی جبکہ بولنگ میں کیمار روچ۔ الزاری جوزف۔ جیڈن سیلز اور شیمر جوزف نمایاں رہے ۔ یہ بولنگ اٹیک پاکستان کی بیٹنگ لائن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

پاکستان ٹیم ایک بار پھر بڑے اسکور کے لیے بابراعظم کی طرف دیکھے گی ۔ویسٹ انڈیز کے خلاف بابراعظم نے آٹھ ٹیسٹ میں 464 رنز بنائے ہیں تاہم وہ ابھی تک اس کے خلاف سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

بابراعظم کو یہ اطمینان ضرور ملا ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ سیریز سے قبل کھیلے گئے وارم اپ میچ میں سنچری اسکور کی۔

شان مسعود کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی سیریز کھیل رہے ہیں۔دیگر بیٹسمینوں میں امام الحق۔ اذان اویس ۔ عبداللہ فضل ۔ سلمان علی آغا شامل ہیں جبکہ اویس ظفر پہلی بار پاکستان ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔

پاکستان کے بولنگ اٹیک میں محمد عباس سب سے زیادہ 110 وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔ ساجد خان کی 69 خرم شہزاد کی 38 عامر جمال کی 21 وکٹیں ہیں جبکہ محمد علی کی وکٹوں کی تعداد 6 ہے۔علی عثمان اور عبید شاہ ابھی تک ٹیسٹ نہیں کھیلے ہیں۔

محمد علی نے وارم اپ میچ میں پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی سے ٹیسٹ سیریز کے لیے اچھا اعتماد حاصل کیا ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہمیشہ دلچسپ کرکٹ کھیلی جاتی رہی ہے جو حنیف محمد اور سرگیری سوبرز سے لے کر یونس خان مصباح الحق اور یاسر شاہ کی شاندار کارکردگی تک رہی ہے۔

دونوں ٹیمیں ابتک 56 ٹیسٹ کھیلے جاچکے ہیں جن میں پاکستان نے 22 جیتے ہیں ویسٹ انڈیز نے 19 میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ 15 ٹیسٹ ڈرا ہوئے ہیں۔ ویسٹ انڈیز میں پاکستان نے 28میں سے 8 ٹیسٹ جیتے ہیں اور 13 میں اسے شکست ہوئی ہے 7 ٹیسٹ میچوں کا نتیجہ برآمدنہیں ہوا ہے۔

پاکستان ٹیم نے آخری مرتبہ 2021 میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا تھا۔ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔اس سیریز میں بھی کپتان بابراعظم تھے ان کے علاوہ اس سیریز کے دو کھلاڑی محمد رضوان اور محمد عباس موجودہ ٹیم کا حصہ ہیں۔

پاکستان ٹیم 2000 سے ویسٹ انڈیز سے سیریز نہیں ہاری ہے۔

پاکستان اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ بابراعظم ( کپتان ) امام الحق۔ اذان اویس۔ شان مسعود۔ عبداللہ فضل۔ سلمان علی آغا۔ محمد رضوان۔ غازی غوری۔ اویس ظفر۔ محمد عباس۔ خرم شہزاد۔ محمد علی۔ عامر جمال۔ ساجد خان۔ علی عثمان اور عبید شاہ۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.