ساجد خان کا جادو بولنے لگا ، ٹیم کو جیت کی پوزیشن میں لے آئے ہیں
پورٹ آف اسپین ۔ آف اسپنر ساجد خان کی شاندار بولنگ نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی جیت کے امکانات روشن کردیے ہیں لیکن ٹیسٹ میچ کا تیسرا دن بابر اعظم اس لیے نہیں بھول پائیں گے کہ وہ 10 ویں ٹیسٹ سنچری کے بہت قریب آکر اس سے دور ہوگئے اور ساڑھے تین سال کا صبر آزما انتظار ختم نہ ہوسکا ۔
ان کی وکٹ گرنے کے بعد صورتحال بھی بدل گئی اور پاکستان ٹیم پہلی اننگز میں 387 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی یوں اسے پہلی اننگز میں صرف 43 رنز کی برتری حاصل ہوسکی ۔
ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز کے خسارے کو 60 رنز کی برتری میں ضرور تبدیل کردیا لیکن کھیل کے ختم ہونے تک وہ صرف 103رنز پر 6 وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی جن میں سے چار وکٹیں ساجد خان نے حاصل کرلی تھیں۔
انہوں نے پہلی اننگز میں بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔
رہی بات بابراعظم کی تو انہوں نے اپنی 9 ویں ٹیسٹ سنچری دسمبر2022 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں بنائی تھی جس کے بعد سے سنچری کے بغیر یہ ان کی لگاتار 35 ویں اننگز تھی۔
دوسرے دن کے برعکس تیسرے دن کی بیٹنگ میں بابر اعظم خاصے محتاط دکھائی دیے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 21 گیندوں پر صرف 2 رنز بنائے لیکن پوری اننگز کے دوران اعتماد سے بیٹنگ کرنے کے بعد ان کی پہلی غلطی ہی ان کی اننگز کے خاتمے کا سبب بن گئی جب 88 کے اسکور پر انہوں نے آف سائیڈ پر ایک رن لینا چاہا جس کی ضرورت نہیں تھی عبداللہ شفیق نے پہلے رن لینے میں آمادگی دکھائی لیکن پھر رک گئے ۔ اس دوران برینڈن کنگ کی غیرمعمولی فیلڈنگ اور براہ راست تھرو نے کام دکھادیا۔
بابر کی 88 رنز کی اننگز میں ایک چھکا اور 10 چوکے شامل تھے۔ یہ ان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے بڑا اسکور بھی ہے اس سے قبل ان کا بہترین اسکور 75 تھا جو انہوں نے 2021 میں کنگسٹن میں بنایا تھا۔
بابراعظم اور عبداللہ شفیق نے تیسری وکٹ کے لیے 183 رنز کا اضافہ کیا جو ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسری وکٹ کے لیے پاکستان کی دوسری بہترین پارٹنرشپ ہے۔ سب سے بڑی شراکت 323 رنز کی ہے جو 1997 میں راولپنڈی ٹیسٹ میں عامر سہیل اور انضمام الحق نے قائم کی تھی۔
بابراعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد اویس ظفر اور سلمان آغا بھی چند لمحات گزار کر پویلین لوٹ گئے۔ پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے اویس ظفر آٹھ گیندیں کھیلنے کے بعد صرف ایک رن پر واریکن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
سلمان علی آغا کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا اور وہ بغیر کوئی رن بنائے شمر جوزف کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔یہ اس سیریز میں ان کا دوسرا لگاتار صفر ہے۔ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بھی وہ صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔
سلمان علی آغا نے آخری ٹیسٹ سنچری اکتوبر 2024 میں انگلینڈ کے خلاف ملتان میں بنائی تھی اس کے بعد سے 23 اننگز میں وہ صرف 5 نصف سنچریاں بنا پائے ہیں۔
محمد رضوان کو واریکن نے 18 رنز پر بولڈ کردیا۔ان کی جانب سے یہ ایک اور مایوس کن پرفارمنس تھی۔
ساجد خان نے عبداللہ شفیق کا اچھا ساتھ دیا اور ساتویں وکٹ کی شراکت میں 59 رنز کا اضافہ کیا ۔وہ چار چوکوں کی مدد سے 30 رنز بناکر جیڈن سیلز کی گیند پر شے ہوپ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
جومیل وایکن نے اپنے 46 ویں اوور میں تین وکٹیں حاصل کرڈالیں۔تیسری گیند پر انہوں نے علی عثمان کو 10 رنز پر کیمار روچ کے ہاتھوں کیچ کرایا پانچویں گیند پر انہوں نے عبید شاہ کو صفر پر بولڈ کیا اور پھر اگلی ہی گیند پر انہوں نے محمد علی کو بھی بولڈ کرکے پاکستان کی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔
عبداللہ شفیق نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 15 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 160 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے ۔ بدقسمتی سے سلمان علی آغا ۔ محمد رضوان اور اویس ظفر ان کا ساتھ نہ دے پائے۔
جومیل واریکن نے 112رنز دے کر6 وکٹیں حاصل کیں۔ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین بولنگ بھی پاکستان کے خلاف رہی ہے جب انہوں نے 2025 میں ملتان ٹیسٹ میں 32 رنزدے کر7 وکٹیں حاصل کی تھیں۔اس سیریز کے دو ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 19 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
اگر وہ دوسری اننگز میں اپنی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کرتے ہیں تو وہ ہیٹ ٹرک مکمل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ابتک مروو ہیوز واحد بولر ہیں جنہوں نے اپنی ہیٹ ٹرک ٹیسٹ میچ کی دو اننگز میں مکمل کی ہے۔



Leave a Reply