انگلینڈ کی 357 رنز کی برتری ، پاکستان کی تشویش میں اضافہ
ایک اور شکست پاکستان ٹیم کا مقدر ٹھہری ۔ لارڈز ٹیسٹ جیتنے کے لیے اسے 389 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن پوری ٹیم چوتھے دن ہی 50.5 اوورز کی بیٹنگ میں صرف 194رنز پر ڈھیر ہوگئی اور اسے 194 رنز ہی کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔
اس طرح انگلینڈ کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔
ہیڈنگلے میں پاکستان ٹیم کو اننگز اور 103رنز کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اس مایوس کن کارکردگی کے ساتھ وہ 9 ستمبر سے شروع ہونے والے ایجبسٹن ٹیسٹ میں خود کو وائٹ واش سے بچا بھی سکے گی یا نہیں ؟ ۔
پاکستان کی دوسری اننگز بھی شان مسعود اور اذان اویس نے شروع کی کیونکہ امام الحق اس اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ پنڈلی کی تکلیف سے ٹھیک ہونے میں انہیں 10 روز لگیں گے ۔
تو کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ تیسرے ٹیسٹ میں انہیں کھلانے کا خطرہ مول لینے کے بجائے انہیں فوری طور پر وطن واپس روانہ کردیا جائے تاکہ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں میڈیکل اسٹاف کی نگرانی میں اپنی فٹنس بحال کرسکیں۔
پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی اولی رابنسن کےمہلک وار پاکستان ٹیم کے منتظر تھے۔
اوپننگ پارٹنرشپ صرف 7 رنز کی ہوسکی اور اذان 6 رنز بناکر اولی رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 106 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ کے بعد سے ابتک 11 اننگز میں پاکستان کی اوپننگ پارٹنرشپ کی صورتحال کچھ اس طرح ہے 3 ۔22 ۔27 ۔ 1۔5 ۔34۔15۔ صفر ۔ صفر ۔ 5 اور 7 ۔
رابنسن نے اسی اوور میں عبداللہ شفیق کو بھی صفر پر بولڈ کردیا۔
کپتان بابراعظم کی ٹیم میں واپسی ان کے اور ٹیم دونوں کے لیے مایوس کن رہی۔جوفرا آرچر کی اٹھتی ہوئی تیزگیند پر وہ صرف 6 رنز بناکر جارڈن کاکس کو کیچ دے گئے۔پہلی اننگز میں وہ صرف 8 رنز بناسکے تھے۔
شان مسعود اور سعود شکیل کے درمیان چوتھی وکٹ کی شراکت میں 97 رنز بنے۔ یہ شراکت بھی اولی رابنسن نے شان مسعود کو26 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے ختم کی اور پھر اگلے ہی اوور میں انہوں نے محمد رضوان کو ایک رن پر ایل بی ڈبلیو کرکے وکٹ کیپر بیٹر کی مایوس کن کارکردگی کو اس کی انتہا پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کو جیت سے مزید قریب پہنچادیا۔
رضوان بنگلہ دیش کے خلاف 94 رنز کے بعد 7 اننگز میں جس طرح بیٹنگ کرتے دکھائی دیے ہیں وہ ان کے بکھرے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔
علی عثمان 16 رنز بناکر جوفرا آرچر کی گیند پر بولڈ ہوگئے
سعود شکیل کی 2 چھکوں اور 13 چوکوں کی مدد سے 97 رنز کی شاندار اننگز بالآخر جوش ٹنگ نے ہیری بروک کے کیچ کی مدد سے ختم کی۔ سعود شکیل نے ان کے پچھلے اوور میں دوچھکے اور ایک چوکا لگایا تھا۔
سعود شکیل کی اکتوبر 2025 میں جنوبی افریقہ کے خلاف پنڈی ٹیسٹ میں 66 رنز کی اننگز کے بعد 9 اننگز میں یہ پچاس سے زائد رنز کی پہلی اننگز تھی۔
جوش ٹنگ نے خرم شہزاد کو 9 رنز پر بولڈ کردیا اور پھر آخری بیٹر محمد علی کو بھی انہوں نے ہیری بروک کے ہاتھوں کیچ کراکر بساط لپیٹ دی۔
عباس 13 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
اولی رابنسن نے 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ پہلی اننگز میں انہوں نے صرف 11 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دو ٹیسٹ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد اب 16 ہوگئی ہے۔
جوش ٹنگ 46 رنز کے عوض 3 اور جوفرا آرچر نے 73 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 31 رنز کا اضافہ کرکے 208 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
ڈین لارنس کو محمد عباس نے54 رنز پر بولڈ کیا۔اولی رابنسن 8 رنز بناکر محمد عباس کی گیند پر رضوان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ آخری بیٹر جوش ٹنگ 12 رنز پر رن آؤٹ ہوگئے۔
محمد عباس نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے گرنے والی تین میں سے دو وکٹیں حاصل کیں اور اننگز کا اختتام 57 رنز کے عوض 5 وکٹوں کے ساتھ کیا اور اپنا نام لارڈز کے آنرز بورڈ پر درج کرادیا۔
پہلی اننگز میں انہوں نے73 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کی تھیں اسطرح انہوں نے اس ٹیسٹ میں130 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کیں۔
محمد عباس کے لیے لارڈز پسندیہ گراؤنڈ رہا ہے جہاں صرف دو ٹیسٹ میچوں کی 4 اننگز میں وہ 17 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
2018 کے لارڈز ٹیسٹ میں انہوں نے دونوں اننگز میں چار چار وکٹیں حاصل کی تھیں اور پلیئر آف دی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔



Leave a Reply