انگلینڈ 248 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ ، بابر کی واپسی لیکن ایک ٹیسٹ کا کپتان اگلے ہی ٹیسٹ سے باہر
انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن پہلی اننگز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز بنائے تھے۔
بارش کی وجہ سے تاخیر سے شروع ہونے والے پہلےدن کا کھیل کم روشنی کے سبب وقت سے پہلے ختم کردینا پڑا۔پورے دن میں صرف 56 اوورز ہی ممکن ہوسکے۔
محمد عباس اور محمد علی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے بالترتیب چار اور تین وکٹیں حاصل کرچکے ہیں ۔
یہ ٹیسٹ اس اہم خبر کے ساتھ شروع ہوا کہ پچھلے ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا اس ٹیسٹ کی ٹیم سے ہی ڈراپ کردیے گئے ہیں۔
یوں بھی پاکستان کرکٹ میں کوئی بھی چیز حتمی نہیں اور کوئی بھی بات یقینی نہیں ۔ آج کے دن یہی بات سلمان علی آغا ضرور سوچ رہے ہونگے جو صرف ایک ٹیسٹ پہلے ، ہیڈنگلے میں پاکستان ٹیم کے کپتان تھے لیکن لارڈز میں وہ گیارہ کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
پاکستان کرکٹ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے کہ خراب فارم اور پرفارمنس پر کسی کپتان کو جاری سیریز کے دوران ٹیسٹ میچ میں ڈراپ کیا گیا ہو۔
سلمان علی آغا ہیڈنگلے ٹیسٹ میں بابراعظم کے نہ کھیلنے کی صورت میں کپتان بنے تھے اور پاکستان وہ ٹیسٹ اننگز اور 103 رنز سے ہارا تھا۔ سلمان علی آغا کی حالیہ فارم بھی اچھی نہیں رہی ہے اسی لیے بابراعظم کی واپسی کی صورت میں انہیں جگہ خالی پڑی حالانکہ موجودہ فارم تو امام الحق اور سعود شکیل کی بھی اچھی نہیں ہے ۔
لارڈز ٹیسٹ سے ایک دن پہلے بابراعظم کی پریس کانفرنس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جارہا تھا کہ ٹیم میں صرف ایک تبدیلی ہوگی جو اذان اویس یا سعود شکیل میں سے کسی ایک کو ڈراپ کرنے کی صورت میں ہوسکتی ہے لیکن دونوں ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
بابراعظم نے دوسرے ٹیسٹ میں دو اسپنرز کھلائے جانے کے سوال پر کہا تھا کہ ہمارے پاس سلمان علی آغا کی صورت میں دوسرے اسپنر کا آپشن موجود ہے لہذا اسوقت کسی نے بھی نہیں سوچا ہوگا کہ سلمان علی آغا ڈراپ ہوسکتے ہیں۔
بابراعظم نے ٹاس جیت کر لارڈز کے سر پر منڈلاتے گہرے بادلوں کو دیکھتے ہوئے پہلے اپنے بولرز کی صلاحیتوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ بابراعظم پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ میں کپتانی کررہے ہیں۔
محمد عباس سے بہتر انگلش کنڈیشنز کو کون سمجھ سکتا ہے ؟ خاص کر لارڈز کو جہاں انہوں نے 2018 کے ٹیسٹ میں 8 وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو9 وکٹوں کی جیت سے ہمکنار کیا تھا اور کاؤنٹی میچوں میں بھی ان کی لارڈز پر کارکردگی اچھی رہی ہے۔
محمد عباس نے کنڈیشنز سے اپنی ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ اپنے پہلے ہی اسپیل میں کردکھایا۔ پہلے انہوں نے ایمیلیو گے ، کو 8 رنز پر محمد رضوان کے شاندار کیچ کے ذریعے پویلین کا راستہ دکھایا ۔اگلے اوور میں بین ڈ کٹ کو 17 رنز پر ایل بی ڈبلیو کردیا اور پھر سب سے بڑی کامیابی کپتان جو روٹ کو 4 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے حاصل کرڈالی۔ جو روٹ کوامپائر پال رائفل کے فیصلے کا اسقدر یقین تھا کہ انہوں نے ریویو لینا مناسب نہیں سمجھا۔
محمد عباس نے یہ تین وکٹیں صرف 17 گیندوں پر حاصل کرڈالی تھیں۔
جو روٹ کے خلاف محمد عباس کے پچھلے اوور میں ایل بی ڈبلیو اپیل پربابر نے ریویو لیا تھا لیکن فیصلہ بیٹر کے حق میں گیا تھا۔
جو روٹ کا ایک رن پر محمد علی کی گیند پر سلپ میں امام الحق نے کیچ بھی ڈراپ کیا تھا۔
36 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد انگلینڈ کو ایک بڑی پارٹنرشپ کی ضرورت تھی لیکن ہیری بروک اور جارڈن کاکس اسکور میں صرف 41 رنز کا اضافہ کرسکے یہ پارٹنرشپ محمد علی نے ہیری بروک کو 15 رنز پر بولڈ کرکے ختم کردی۔
انگلینڈ کی گرنے والی پانچویں وکٹ ڈین لارنس کی تھی جو 17 رنز بناکر شان مسعود کی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔اس وکٹ پر سب سے زیادہ خوشی شان مسعود کو ہوئی ہوگی جنہوں نے 10 رنز پر لارنس کا کیچ خرم شہزاد کی گیند پر ڈراپ کردیا تھا۔
جارڈن کاکس 7 چوکوں کی مدد سے 55 رنز بناکر خرم شہزاد کی گیند پر سیکنڈ سلپ میں متبادل فیلڈر سلمان علی آغا کے شاندار کیچ پر آؤٹ ہوگئے جو محمد عباس کی جگہ فیلڈنگ کررہے تھے۔
کاکس نے جیمی اسمتھ کے ساتھ چھٹی وکٹ کی شراکت میں 67 رنز کا اضافہ کیا۔ جیمی اسمتھ 10چوکوں کی مدد سے 61 رنز بناکر محمد علی کی گیند پر بولڈ ہوگئے جنہوں نے اسی اوور میں اولی رابنسن کو بھی صفر پر بولڈ کردیا۔
محمد عباس نے چوتھی کامیابی جوفرا آرچر کو 14 رنز پر بولڈ کرکے حاصل کی۔
کھیل ختم ہونے پر گس اٹکنسن 34 اور جوش ٹنگ ایک رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔
محمد عباس 56 رنز کے عوض 4 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی وکٹوں کی تعداد اب 902 ہوگئی ہے۔
محمد علی نے 3 وکٹیں 67 رنز کے عوض حاصل کیں لیکن وہ اور خرم شہزاد نوبالز پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں ۔دونوں ابتک پانچ پانچ نوبالز کرچکے ہیں۔
خرم شہزاد سلہٹ ۔تاروبا ۔ ہیڈنگلے اور اب اس اننگز میں مجموعی طور پر 34 نوبالز کرچکے ہیں۔



Leave a Reply