URDUسیریز جیتنے کا خواب بکھر گیا ، اب سارا زور سیریز برابر کرنے پر

سیریز جیتنے کا خواب بکھر گیا ، اب سارا زور سیریز برابر کرنے پر

پورٹ آف اسپین ۔ کپتان بابراعظم اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد کا نئی ُامیدوں کے ساتھ ٹیسٹ سیریز جیتنے کا خواب بکھر چکا اور اب پاکستان ٹیم اس پوزیشن میں آچکی ہے کہ کوئنز پارک اوول میں ٹیسٹ جیت کر سیریز کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جاسکے۔

پاکستان ٹیم2005 سے ابتک ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے۔

پاکستان کے نقطہ نظر سے سب سے مایوس کن بات یہ ہے کہ ملک سے باہر ٹیسٹ میچ ہارنے کا سلسلہ بڑھتا ہوا مسلسل آٹھ ناکامیوں تک جا پہنچا ہے۔ایسی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔

ویسٹ انڈیز کی تاروبا میں پہلے ٹیسٹ میں 90 رنز کے واضح فرق سے جیت پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے غیرمتوقع یا حیران کن معلوم نہیں ہوتی۔ پاکستان ٹیم کی میچ پر گرفت اسی وقت کمزور ہوگئی تھی جب وہ پہلی اننگز میں282 رنز پر آؤٹ ہوکر ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی اننگز کی برتری حاصل نہ کرسکی اور پھر اس کے بیٹرز نے دوسری اننگز میں اپنی مایوس کن کارکردگی کی پرانی روایت برقرار رکھی اور211 رنز کا ہدف ان سے عبور نہ ہوسکا۔

شکست کے اس زخم کے ساتھ کھلاڑیوں کے زخم بھی پاکستان ٹیم کی مشکلات بڑھا چکے ہیں۔ پہلے عبداللہ فضل کمر کی تکلیف کے سبب ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دورے سے مکمل طور پر باہر ہوگئے اور پھر پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے شان مسعود بھی انگلی میں فریکچر کی وجہ سے دوسرے ٹیسٹ سے باہر ہوچکے ہیں۔

ان دونوں زخموں کو سعود شکیل اور عبداللہ شفیق کے ذریعے بھرنے کی کوشش کی گئی ہے حالانکہ اویس ظفر پہلے سے ٹیم کے ساتھ موجود ہیں لیکن تجربہ ٹیلنٹ پر غالب آنے کا امکان ہے ۔

اس دورے کے لیے ٹیم کے اعلان کے وقت یہ بتایا گیا تھا کہ سعود شکیل فٹ ہونے کی صورت میں انگلینڈ میں ٹیم میں شمولیت اختیار کریں گے لیکن اب انہیں ویسٹ انڈیز میں ہی ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے۔

حالیہ چند سیریز میں سعود شکیل کی فارم سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

دسمبر 2024 میں انگلینڈ کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کی سنچری کے بعد سے وہ مسلسل 16 اننگز میں کوئی بھی سنچری نہیں بناسکے ہیں۔

دوسری جانب عبداللہ شفیق نے بھی آخری ٹیسٹ سنچری اکتوبر 2024 میں انگلینڈ کے خلاف ملتان میں بنائی تھی۔ وہ اکتوبر 2025 میں جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی میں اپنا آخری ٹیسٹ کھیلے تھے جس میں انہوں نے 57 اور 6 رنز بنائے تھے جس کے بعد انہیں بنگلہ دیش کے دورے کے لیے ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔

عبداللہ شفیق کی ٹیم میں واپسی اس لیے بھی حیران کن ہے کہ 26-2025 کی قائدعظم ٹرافی میں انہوں نے 4 نصف سنچریوں کی مدد سے صرف 369 رنز بنائے ہیں اور وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹرز میں 42 ویں نمبر پر تھے۔

عبداللہ شفیق نے اس سیزن میں پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو نان فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں 911 رنز بنائے تو کیا کسی کھلاڑی کو نان فرسٹ کلاس کرکٹ کی پرفارمنس پر ٹیم میں سلیکٹ کیا جاسکتا ہے؟۔

عبداللہ شفیق اس وقت ویسٹ انڈیز میں گلوبل سپر لیگ میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کررہے تھے لیکن اس میں بھی ان کی کارکردگی مایوس کن رہی اور تین میچوں میں وہ صرف 12 ۔8 ۔ اور 21 رنز بناپائے۔

ابھی یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ پاکستان ٹیم کن گیارہ کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترے گی؟۔ کیا عامر جمال اور علی عثمان پہلے ٹیسٹ کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوپائیں گے ؟ یا پھر نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو ٹیسٹ کیپ دی جائے گی؟۔

کوئنز پارک اوول پورٹ آف اسپین میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 6 ٹیسٹ کھیلے جاچکے ہیں جن میں ویسٹ انڈیز نے 3 اور پاکستان نے 2 جیتے ہیں ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا ہے۔

یہ گراؤنڈ دو سال کے وقفے کے بعد ٹیسٹ کی میزبانی کررہا ہے۔ 2024 میں یہاں جنوبی افریقہ نے ٹیسٹ کھیلا تھا جو ڈرا ہوا تھا۔ اس میچ میں دونوں ٹیموں کے لیفٹ آرم اسپنرز مہاراج ( آٹھ وکٹ ) اور جومیل واریکن ( چھ وکٹ ) نمایاں رہے تھے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.