URDUایشیا کپ کے بعد ایشین گیمز میں بھی پاکستان ویمنز ٹیم کا سفر سیمی فائنل میں ختم

ایشیا کپ کے بعد ایشین گیمز میں بھی پاکستان ویمنز ٹیم کا سفر سیمی فائنل میں ختم

پاکستان ویمنز ٹیم منگل کو ایشین گیمز میں کانسی کے تمغے کے لیے بنگلہ دیش کے مدمقابل ہوگی۔

اسی روز گولڈ میڈل کے لیے فیصلہ کن میچ دفاعی چیمپئن بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا۔

اتوار کے روز پاکستان ویمنز ٹیم کا سفر سیمی فائنل میں آکر ختم ہوگیا جہاں اسے سری لنکا نے 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس سے قبل ایشیا کپ میں بھی سری لنکا نے پاکستان کو سیمی فائنل میں4 وکٹوں سے ہرایا تھا۔

ایشین گیمز کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے بنگلہ دیش کو 114 رنز سے شکست دے دی جس میں شفالی ورما کی پہلی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سنچری قابل ذکر تھی ۔ ان کے 3 چوکوں اور 9 چھکوں کی مدد سے 100 رنز کپتان ہرمن پریت کور کے 40 اور سمرتی مندھانا کے 37 رنز کی بدولت بھارت نے 4 وکٹوں پر195 رنز اسکور کیے اور پھر بنگلہ دیش کو 15.4 اوورز میں صرف 81 رنز پر آؤٹ کردیا ۔ دیپتی شرما نے 7 اور نندنی ورما نے 25 رنز دے کر تین تین وکٹیں حاصل کیں۔

سمرتی مندھانا ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 4788 رنز بنانے والی بیٹر بن گئی ہیں ۔ سابقہ ریکارڈ نیوزی لینڈ کی سوزی بیٹس کے 4758 رنز کا تھا۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا۔

پاکستان ٹیم سری لنکا کے خلاف اپنے سب سے بڑے اسکور کا بھی دفاع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی جس کی بڑی وجہ سری لنکن کپتان چماری اتاپتو کی شاندار بیٹنگ تھی جنہوں نے 83 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی۔

پاکستان ٹیم کوارٹرفائنل میں تھائی لینڈ کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں پہنچی تھی جبکہ سری لنکا نے کوارٹرفائنل میں ملائشیا کو 86 رنز سے ہرایا تھا۔

اتوار کو پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ دی جس نے 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بنائے جو ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اس کا سری لنکا کے خلاف سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔ اس سے قبل اس نے اسی سال دمبولا میں 7 وکٹوں پر 176 رنز بنائے تھے۔

جواب میں سری لنکا نے 17.5 اوورز میں صرف 2 وکٹوں پر 178 رنز بناکر بازی اپنے نام کرلی ۔ سری لنکا نے بھی پاکستان کے خلاف اپنے سب سے بڑےاسکور کا ریکارڈ برابر کیا ہے۔اس نے اسی سال دمبولا میں 4 وکٹوں پر 178 رنز بنائے تھے۔

میچ کا آغاز پہلی ہی گیند پر گل فیروزہ کی وکٹ گرنے سے ہوا جنہیں کماری نے بولڈ کردیا۔

گل فیروزہ کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے اور وہ آخری 6 اننگز میں 3 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوچکی ہیں۔وہ مجموعی طور پر38 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں صرف 3 نصف سنچریاں بناسکی ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط صرف 15 ہے۔

شوال ذوالفقار اور سائرہ جبین اسکور کو 35 رنز تک لے گئیں۔سائرہ جبین 3 چوکوں کی مدد سے 17 رنز بناکر اتاپتو کی گیند پر سمارا وکرما کے ہاتھوں کیچ

ہوگئیں۔

شوال ذوالفقار اور عائشہ ظفر نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 115 رنز کا اضافہ کیا جو ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی سب سے بڑی پارٹنرشپ ہے اس سے قبل 2014میں جویریہ خان اور بسمہ معروف نے بنگلہ دیش کے خلاف تیسری وکٹ کے لیے 109 رنز بنائے تھے۔

عائشہ ظفر نے 40گیندوں پر 2 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے71 رنز اسکور کیے۔یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی پہلی نصف سنچری ہے ۔ وہ ایک سنچری بھی اسکور کرچکی ہیں۔

انہوں نے کویشا دلہاری کی بولنگ پر جارحانہ انداز اختیار کیا اور ان کے دوسرے اوور میں تین چوکےاور تیسرے اوور میں چار چوکے لگائے۔

شوال ذوالفقار نے 54 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 3 چوکے اور2 چھکے شامل تھے۔ یہ ان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دوسری نصف سنچری ہے۔

کپتان فاطمہ ثنا نے ایک چھکے اور 2 چوکوں کی مدد سے 20 رنز بنائے اور وہ آؤٹ نہیں ہوئیں۔

سری لنکا کی ہدف تک پہنچنے کی سب سے بڑی امید کپتان چماری اتاپتوتھیں جنہوں نے 6چھکوں اور 7چوکوں کی مدد سے 50 گیندوں پر 83 رنز ناٹ آؤٹ کی میچ وننگ اننگز کھیل ڈالی۔

یہ ان کی 16 ویں نصف سنچری ہے ۔انہوں نے مومنہ ریاست کے ایک اوور میں دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے20 رنز بنانے کے بعد نشرہ سندھو کے ایک اوور میں ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے 14 رنز بناڈالے۔انہوں نے ام ہانی کے ایک ہی اوور میں دو چھکے بھی لگائے۔

ان کا 78 رنز پر آسان کیچ عالیہ ریاض نے ڈراپ کیا۔

دوسری جانب ہاسینی پریرا نے بھی جارحانہ بیٹنگ کی اور 3 چوکوں اور 3چھکوں کی مدد سے 42 رنز اسکور کیے۔انہوں نے طوبٰی حسن کے ایک اوور میں 19 رنز بناڈالے۔

اتاپتو اور پریرا نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 95 رنز بناکر سری لنکا کو جیت کا راستہ دکھادیا۔

سمارا وکرما 17 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہیں۔

یہ پاکستان ویمنز کی سری لنکا ویمنز کے خلاف 26 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 13 ویں شکست ہے۔پاکستان ویمنز نے 12میچ جیتے ہیں ایک میچ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ۔

اس سال کھیلے گئے 24 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں یہ پاکستان ویمنز کی 13 ویں شکست ہے۔ اس نے 9 میچز جیتے ہیں۔2 میچز نتیجہ خیزثابت نہیں ہوئے ہیں۔

پاکستان ویمنز ٹیم نے دو مرتبہ 2010 اور 2014میں ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا لیکن 2022 میں وہ چوتھے نمبر پر رہی تھی۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.