پاکستان کی بیٹنگ ڈگمگا گئی، صرف 171 رنز پر آؤٹ ، اولی رابنسن اور جوش ٹنگ چھاگئے
ہیڈنگلے ۔ فاسٹ بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ کی پانچ پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کو ہیڈنگلے ٹیسٹ کے پہلے ہی دن 48.1 اوورز میں صرف 171 رنز پر آؤٹ کردیا۔
انگلینڈ نے کھیل ختم ہونے پر 25 اوورز کی بیٹنگ میں 2 وکٹوں پر 112 رنز بنائے تھے۔
بابراعظم کے بغیر ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم کی قیادت پہلی بار سلمان علی آغا کررہے ہیں ۔ پاکستان نے تین فاسٹ بولرز محمد عباس ۔ خرم شہزاد اور محمد علی کے ساتھ لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان کو بھی شامل کیا ہے جبکہ دوسری طرف انگلینڈ کی ٹیم چار فاسٹ بولرز اولی رابنسن ۔ گس اٹکنسن۔ جوفرا آرچر اور جوش ٹنگ کے ساتھ میدان میں آئی ہے۔
جو روٹ نے ٹاس جیت کر آسمان پر گہرے بادلوں اور اپنے ہوم گراؤنڈ ہیڈنگلے کی پچ کا مزاج جانتے ہوئے پہلے اپنے فاسٹ بولرز کی صلاحیتوں کو پرکھنے کا فیصلہ کیا۔
اولی رابنسن میچ کی پہلی ہی گیند پر اذان اویس کو ایل بی ڈبلیو کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ ان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں 500 ویں وکٹ بھی تھی۔
یہ کسی بھی پاکستانی بیٹر کے ٹیسٹ میچ کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہونے کا دوسرا موقع ہے ۔ 84-1983 میں جالندھر ٹیسٹ کی پہلی ہی گیند پر محسن خان کپل دیو کی گیند پر آؤٹ ہوئے تھے۔
اولی رابنسن اسی پر نہیں تھمے اور انہوں نے اپنے تیسرے اوور میں شان مسعود کو بھی 5 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے پویلین کی راہ دکھائی جو فریکچر زدہ انگلی ٹھیک ہونے کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ اسوقت اسکور بورڈ پر مجموعی اسکور صرف 6 رنز تھا۔
جب بارش کی وجہ سے کھیل رکا تو پاکستان کا اسکور 2 وکٹوں پر23 رنز تھا۔انگلینڈ نے اس دوران عبداللہ شفیق اور امام الحق پر اپنے دو ریویو بھی ضائع کردیے تھے۔ یہ دونوں بیٹرز اسکور کو 97 تک لے گئے۔ 91 رنز کی یہ شراکت امام الحق کے آؤٹ ہونے پر ختم ہوئی جو 74 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 42 رنز بناکر جوش ٹنگ کی گیند پر سلپ میں ہیری بروک کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ انگلینڈ میں پانچ اننگز میں یہ ان کا سب سے بڑا اسکور ہے۔
اب کریز پر عبداللہ شفیق کے ساتھ سعود شکیل موجود تھے ۔یہ دونوں انگلینڈ میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔
سعود شکیل صرف 5 رنز بناکر اولی رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ انہوں نے ریویو لینے کے بارے میں اتنا زیادہ غور و فکر کیا کہ وقت ہی نکل گیا اور انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ اگر وہ بروقت ریویو لے لیتے تو اپنی وکٹ بچانے میں کامیاب ہوجاتے کیونکہ گیند لیگ پر اوپر تھی ۔
عبداللہ شفیق کی 8 چوکوں کی مدد سے 61 رنز کی عمدہ اننگز بھی رابنسن نے بولڈ کرکے ختم کردی۔پاکستان کی پانچویں وکٹ 118 کے اسکور پر گری۔
کپتان سلمان علی آغا کے لیے ان دنوں حالات اچھے نہیں ہیں ۔ویسٹ انڈیز میں تین اننگز میں 23۔ صفر اور صفر کی مایوس کن کارکردگی کے سبب ان پر ویسے ہی دباؤ ہے وہ صرف 21 رنز بناکر جوش ٹنگ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔یاد رہے کہ سلمان آغا کا بھی یہ انگلینڈ میں پہلا ٹیسٹ ہے۔
جوش ٹنگ نے اگلی ہی گیند پر علی عثمان کو بھی ایل بی ڈبلیو کردیا تاہم خرم شہزاد نے چوکے کے ذریعے انہیں ہیٹ ٹرک نہیں کرنے دی۔
محمد رضوان صرف 12 رنز بناکر جوش ٹنگ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ ویسٹ انڈیز میں وہ تین اننگز میں صرف 12۔ 11 اور 18 رنز ہی بنا پائے تھے۔
یہ وہی رضوان ہیں جو 2020 کی انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز میں پلیئر آف دی سیریز قرار پائے تھے اور وزڈن نے انہیں سال کے پانچ بہترین کرکٹرز میں بھی شامل کیا تھا۔
او لی رابنسن نے اپنی پانچویں کامیابی خرم شہزاد کو 14 رنز پر آؤٹ کرکے حاصل کی تو دوسری جانب جوش ٹنگ نے بھی اپنی پانچویں وکٹ محمد عباس کو آؤٹ کرکے حاصل کی اور پاکستان کی پہلی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔
پاکستان کی آخری 5 وکٹیں اسکور میں صرف 21 رنز کا اضافہ کرسکیں۔
ٹنگ نے 46 رنز دے کر5 وکٹیں حاصل کیں۔ رابنسن نے 5 وکٹوں کے لیے 51 رنز دیے۔
پاکستان کو بھی انگلینڈ کی طرح پہلے ہی اوور میں وکٹ مل جاتی لیکن محمد عباس کی گیند پر بین ڈکٹ ایل بی ڈبلیو ہونے سے بچ گئے۔ ریویو کے فیصلے پر پاکستانی کھلاڑی مطمئن دکھائی نہیں دیے۔
تاہم دوسری مرتبہ ڈکٹ محمد عباس کی گیند پر اپنی وکٹ نہ بچاسکے اور 15 رنز پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔
ایمیلو گے 33 رنز بناکر محمد علی کی گیند پر سلپ میں سلمان آغا کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
جب کھیل ختم ہوا تو جارڈن کاکس 23 اور جو روٹ 37 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔



Leave a Reply