پاکستان ویمنز ٹیم ممکنہ شکست سے بچ گئی ، تھائی لینڈ کو 3 وکٹوں سے ہرا پائی
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم ایشین گیمز کے کوارٹرفائنل میں تھائی لینڈ کے سخت چیلنج کا سامنا کرنے کے بعد بمشکل 3 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرپائی۔
اب سیمی فائنل میں پاکستان ویمنز کا مقابلہ سری لنکا اور ملائشیا کے میچ کی فاتح سے ہوگا۔
بارش کی وجہ سے اس میچ کو11 اوورز تک محدود کردیا گیا تھا۔
پاکستان ٹیم کو اس ٹورنامنٹ میں وکٹ کیپر بیٹر منیبہ علی کی خدمات حاصل نہیں ہیں جو والدہ کی بیماری کی وجہ سے وطن واپس آگئی ہیں۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر تھائی لینڈ کو بیٹنگ دی جس نے 11 اوورز میں 4 وکٹوں پر 91 رنز بنائے۔
جواب میں پاکستان نے 10.4 اوورز میں 7 وکٹوں پر ہدف حاصل کیا ۔
تھائی لینڈ کی اننگز میں کپتان کونچا روئنکائی نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 38گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 49 رنز بنائے۔انہیں فاطمہ ثنا نے ایل بی ڈبلیو کیا جو اس سے قبل ناتھاکن چینتھم کی وکٹ بھی حاصل کرچکی تھیں۔
مایا 15 رنز بناکر ریٹائرڈ آؤٹ ہوگئیں۔ان کی جگہ بیٹنگ کے لیے آنے والی کپتان ناریمول چیوائی، نشرہ سندھو کو ایک چھکا اور ایک چوکا لگانے کے بعد اگلی ہی گیند پر آؤٹ ہوگئیں۔
پاکستان کی بولنگ میں تسمیہ رباب نے 2 اوورز میں صرف 11 رنز دیے ۔ام ہانی سب سے مہنگی ثابت ہوئیں ان کے 2 اوورز میں 22 رنز بنے۔ طوبٰی حسن نے 2 اوورز میں 15 جبکہ نشرہ سندھو نے 19 رنز دیے۔
کپتان فاطمہ ثنا نے 3 اوورز میں 22 رنز دے کر2 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان ٹیم کی فیلڈنگ ایک مرتبہ پھر غیرمعیاری رہی۔ منیبہ علی کی غیرموجودگی میں وکٹ کیپنگ کرنے والی گل فیروزہ نے آسان کیچ ڈراپ کیا۔
تھائی لینڈ کی اننگز میں ایک چھکا اور 10 چوکے شامل تھے۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز شوال ذوالفقار نے ُپراعتماد انداز میں کیا لیکن وہ 14 گیندوں پر ایک چھکے اور3 چوکوں کی مدد سے25 رنز بناکر آؤٹ ہوگئیں۔
عائشہ ظفر صرف ایک رن بناکر آؤٹ ہوئیں۔
گل فیروزہ نے وکٹ کیپنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی مایوس کیا اور وہ 16 رنز بناکر آؤٹ ہوگئیں۔گل فیروزہ آخری پانچ ٹی ٹوئنٹی اننگز میں صفر۔ صفر 3۔ 21۔ اور 16 رنز جیسی مایوس کن کارکردگی دکھا پائی ہیں۔
گل فیروزہ کے بعد عالیہ ریاض 4 رنز پر آؤٹ ہونے والی چوتھی بیٹر تھیں ۔دونوں وکٹیں ایک ہی اوور میں گریں۔
عالیہ ریاض ایشیا کپ کے اسکواڈ سے ڈراپ کردی گئی تھیں لیکن پھر ایشین گیمز اسکواڈ میں انہیں حیران کن طور پر شامل کیا گیا حالانکہ ان کی ویمنز ورلڈ کپ میں پرفارمنس انتہائی مایوس کن رہی تھی اور چار میچوں میں ان کا سب سے بڑا اسکور صرف 18 رنز رہا تھا۔
کپتان فاطمہ ثنا اور ایمان فاطمہ کے درمیان 26 رنز کی شراکت فاطمہ ثنا کے آؤٹ ہونے پر ختم ہوئی جو ایک چھکے اور3 چوکوں کی مدد سے 21 رنز بناکر آؤٹ ہوگئیں۔پاکستان کی پانچویں وکٹ 73رنز پر گرگئی۔
ایمان فاطمہ صرف 7 رنز بناکر آؤٹ ہوئیں تو اسکور 6 وکٹوں پر 77 رنز تھا۔
طوبی حسن 13 رنز بناکر آؤٹ ہوئیں تو پاکستان کو جیتنے کے لیے صرف 4 رنز درکار تھےجو ایمان نصیر اور ام ہانی کی موجودگی میں بن گئے۔
تھائی لینڈ کی طرف سے اونیچا نے تین وکٹیں حاصل کیں۔
یہ دونوں ٹیموں کے درمیان 5 واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تھا۔ پاکستان نے 3 میچز جیتے ہیں تھائی لینڈ نے ایک میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایک میچ کا نتیجہ برآمدنہیں ہوسکا ۔
اس سے قبل بنگلہ دیش اور چین کے درمیان کھیلا گیا پہلا کوارٹرفائنل مکمل طور پر بارش کی نذر ہوگیا اور ایک گیند بھی نہیں کرائی جاسکی جس کے بعد بنگلہ دیش ویمنز نے سیڈنگ میں چین ویمنز سے آگے ہونے کی وجہ سے سیمی فائنل میں کوالیفائی کرلیا جہاں کا مقابلہ جاپان اور بھارت کے میچ کی فاتح سے ہوگا۔
جمعہ کو مزید دو کوارٹرفائنلز کھیلے جائیں گے۔ سری لنکا کا مقابلہ ملائشیا سے ہوگا جبکہ دفاعی چیمپئن بھارتی ٹیم جاپان کے مقابل ہوگی۔
دونوں سیمی فائنلز 20 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔ تیسری پوزیشن کا میچ اور فائنل 22 ستمبر کو ہونگے۔
یہ چوتھا موقع ہے کہ ویمنز کرکٹ کو ایشین گیمز میں شامل کیا گیا ہے اس سے قبل 2010 ۔ 2014 اور 2022 میں ویمنز کرکٹ ایونٹ ایشین گیمز میں شامل تھا۔ پہلے دو ایونٹس پاکستان نے جیتے تھے جبکہ تیسرے میں بھارت نے کامیابی حاصل کی تھی جس میں پاکستان چوتھے نمبر پر رہا تھا۔



Leave a Reply