URDUپاکستان اور نمبر تین عالمی رینکنگ کے درمیان سری لنکا حائل

پاکستان اور نمبر تین عالمی رینکنگ کے درمیان سری لنکا حائل

پاکستان کرکٹ ٹیم  منگل کو جب سری لنکا کے خلاف سہ فریقی ون ڈے سیریز کے اپنے آخری لیگ میچ  کے لیے میدان میں اترے گی تو اس کی نظریں عالمی نمبر تین رینکنگ پر ہونگی ۔ جیت کی صورت  میں وہ آئی سی سی کی عالمی ون ڈے رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آجائے گی۔

پاکستان نے اس سیریز کا آغاز پانچویں پوزیشن سے کیا تھا جبکہ آسٹریلیا اس سے آگے تھا۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ  اسوقت 104 پوائنٹس کے ساتھ برابر ہیں۔  منگل کو کامیابی پاکستان کو بھارت اور نیوزی لینڈ کے بعد رینکنگ میں تنہا تیسری پوزیشن پر پہنچا دے گی۔

تیسری پوزیشن حاصل کرنا ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو گزشتہ سال اپنی تقرری کے بعد کی کارکردگی کے حق میں اعداد و شمار پیش کرنے کا موقع بھی دے گا۔ اعداد و شمار ان کی کارکردگی کی تائید کرتے ہیں۔ وائٹ بال کرکٹ میں ہیسن  کی زیرِ نگرانی پاکستان نے 64 میں سے 43  میچز جیتے ہیں جن میں 18میں سے 12 ون ڈے اور 46 میں سے 31 ٹی ٹوئنٹی میچز شامل ہیں۔

یہی اعداد و شمار کچھ تلخ حقائق بھی سامنے لاتے ہیں۔ ان 43  میں سے 32 فتوحات کم رینکنگ والی ٹیموں کے خلاف حاصل ہوئیں، جن میں سری لنکا، بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز، افغانستان، زمبابوے اور پانچ ایسوسی ایٹ ممالک شامل ہیں۔ پاکستان کو بھارت کے خلاف پانچوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں شکست ہوئی جبکہ بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف تین میں سے دو، دو ون ڈے میچز میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سلمان علی آغا کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کپتانی ختم کر دی گئی لیکن ہیسن بدستور ہیڈ کوچ رہے۔ ٹیم کے انتخاب میں عدم تسلسل بھی برقرار ہے۔ اس کی تازہ مثال ٹیسٹ اسکواڈ ہے، جس میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی ٹیم کے تیرہ کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا۔

منگل کی جیت، جس کے بعد ہفتے کو ایک اور کامیابی حاصل ہو، پاکستان کو حالیہ بڑے ٹورنامنٹس کی مایوسیوں سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان ناکامیوں میں آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی قابل ذکر ہیں۔

تین ملکی سیریز میں مسلسل تین فتوحات نے ٹیم کی ساکھ بہتر کی ہے اور ان کھلاڑیوں کو بھی نمایاں کیا ہے جنہوں نے ان میچز میں غلبہ حاصل کیا۔

لارڈز ٹیسٹ کے بعد سلمان علی آغا کو غیر متوقع طور پر ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی لیکن دوسرے ٹیسٹ میں انہیں ٹیم میں جگہ نہیں ملی۔ وطن واپسی پر انہوں نے پریذیڈنٹ ٹرافی میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹرپل سنچری اسکور کی۔

انگلینڈ کے خلاف عرفات منہاس نے آل راؤنڈ کارکردگی سے سب کی توجہ چھ وکٹوں اور نصف سنچری سے حاصل کی۔سعدبیگ اور حسن نواز نے بھی متاثر کن کھیل پیش کیا۔انگلینڈ کے خلاف شاداب خان کی یادگار پرفارمنس مدتوں یاد رہے گی۔

اس اننگز نے شاداب کے غیر یقینی بین الاقوامی کریئر کو سہارا دیا اور ان ناقدین کو خاموش کرنے میں مدد کی جنہوں نے ان کی خراب فارم کو ان کے سسر، پاکستان کے لیجنڈری آف اسپنر ثقلین مشتاق سے جوڑا تھا۔ یہ افسوس ناک تھا کہ نئے میڈیا کے بعض حلقوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ شادی سے پہلے بھی شاداب ایک ثابت شدہ کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی تھے۔ دوسری جانب ثقلین مشتاق 2023 کے بعد سے نہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا حصہ رہے ہیں اور نہ ہی کسی فیصلہ سازی کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

شاہین شاہ آفریدی نے 46 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ یہ 15 میچز میں ان کی پہلی چار وکٹوں والی کارکردگی تھی۔ تاہم ان کی کپتانی پر سوالات بھی اٹھے، خصوصاً اس فیصلے پر کہ انگلینڈ کے پاور پلے میں باون رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد پارٹ ٹائم بولرز کو کیوں استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ انگلینڈ کی آخری جوڑی، گس ایٹکنسن اور ڈیبیو کرنے والے ہنری کروکومب کو

36 رنز بنانے کا موقع دینے کے فیصلے پر بھی سوالات کیے گئے۔

پیر کی صبح پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ صائم ایوب باقی میچز سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ ہیڈ کوچ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ وہ اپنی بیٹنگ بہتر بنانے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس جائیں گے۔

نیپال میں لیگ کرکٹ کھیلنے والے صاحبزادہ فرحان کو ٹیم میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان کی شمولیت سے ان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اوپننگ جوڑی کے ساتھی معاذ صداقت کے ساتھ دوبارہ کھیلنے کا موقع ملے گا۔ معاذ کو اتوار کی صبح سفیان مقیم کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

صائم کی عدم دستیابی اور معاذ کی لاہور میں موجودگی کے باعث امکان ہے کہ منگل کو معاذ، فخر زمان کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں گے۔ تاہم اگر ہیسن کوئی مختلف فیصلہ کرتے ہیں اور سعد بیگ کو ان کے معمول کے اوپننگ سلاٹ پر کھلاتے ہیں تو کسی ماہر بولر کے لیے جگہ بن سکتی ہے۔

بہرحال، تمام نظریں فخر زمان اور بابر اعظم پر ہوں گی، جنہوں نے اب تک اور بالترتیب 89 اور26 رنز بنائے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں، لیکن اب انہیں جلد از جلد رنز بنانے ہوں گے۔

پاکستان نے تینوں میچز میں متاثر کن کرکٹ کھیلی ہے، لیکن سیریز کے فیصلہ کن مرحلے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اسے چند شعبوں میں مزید بہتری لانا ہوگی۔ اس کا مقصد اپنی سرزمین پر پہلی بار کوئی  سہ یا چار ملکی ٹورنامنٹ جیتنا اور ہفتے کے اختتام پر ون ڈے رینکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے کا جشن منانا ہے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.