URDUپریذیڈنٹ ٹرافی فائنل کراچی سے باغ جناح لاہور منتقل ، اسٹیٹ بینک اور ایم آئی ٹی مدمقابل

پریذیڈنٹ ٹرافی فائنل کراچی سے باغ جناح لاہور منتقل ، اسٹیٹ بینک اور ایم آئی ٹی مدمقابل

اسٹیٹ بینک اور ایم آئی ٹی سلیوشنز کی ٹیمیں پریذیڈنٹ ٹرافی کے پانچ روزہ فائنل میں مدمقابل ہورہی ہیں لیکن یہ فائنل جو کراچی کے اسٹیٹ بینک اسپورٹس کمپلیکس میں شیڈول کیا گیا تھا اب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسے لاہور کے باغ جناح گراؤنڈ منتقل کردیا ہے اور یہ فائنل اب 27 سے 31 اکتوبر تک کھیلا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے پریس ریلیز میں باغ جناح گراؤنڈ کی تاریخ تفصیل سے بیان کی ہے کہ یہ گراؤنڈ 21 سال بعد پہلی مرتبہ فرسٹ کلاس میچ کی میزبانی کرے گا ۔آخری مرتبہ نومبر 2005 میں اس گراؤنڈ پر پاکستان اے اور انگلینڈ کے درمیان تین روزہ فرسٹ کلاس میچ کھیلا گیا تھا۔

تاہم اس پریس ریلیز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فائنل کراچی سے آخری لمحات میں لاہور کیوں منتقل کیا گیا ہے ؟ ۔

اطلاعات یہ ہیں کہ فائنل اسٹیٹ بینک اسپورٹس کمپلیکس سے منتقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ اسٹیٹ بینک کی ٹیم فائنل کھیل رہی ہے لہذا اسی کے ہوم گراؤنڈ پر یہ فائنل نہیں ہوسکتا تھا ۔ اس صورت میں یہ فائنل نیشنل اسٹیڈیم یا یوبی ایل یا نیشنل بینک اسپورٹس کمپلیکس میں بھی منتقل ہوسکتا تھا۔

ساتویں راؤنڈ اور فائنل کے درمیان پہلے صرف ایک دن کا وقفہ رکھا گیا تھا جسے بعد میں دو دن کردیا گیا لیکن اب یہ فائنل ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کردیا گیا ہے۔

اس تمام صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی ٹیم فائنل کھیلنے کراچی پہنچ چکی تھی۔

اسٹیٹ بینک نے پوائنٹس ٹیبل پر 107 پوائنٹس کے ساتھ آٹھ ٹیموں میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے فائنل میں جگہ بنائی ہے۔وہ پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہی اس نے دو میچز جیتے اور پانچ ڈرا کیے۔

دوسری جانب گریڈ ٹو ٹورنامنٹ جیت کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں ترقی پانے والی ایم آئی ٹی نے 96 پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کرکے فائنل میں کوالیفائی کیا۔اس نے دو میچ جیتے ایک میں شکست کھائی اور چار میچز ڈرا کھیلے۔

اوجی ڈی سی ایل پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر آنے کے سبب گریڈ ٹو میں ریلیگیٹ ہوگئی ۔ وہ گزشتہ سیزن میں بھی آخری نمبر پر آئی تھی لیکن واپڈا کے اس سیزن میں نہ کھیلنے کے سبب اوجی ڈی سی ایل کو پریذیڈنٹ ٹرافی میں شامل کیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ بھی اس کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

دیگر پانچ ٹیموں میں کنگزمین اکیڈمی اور غنی گلاس نے یکساں طور پر 89 پوائنٹس حاصل کیے۔کے آر ایل نے83 ایس این جی پی ایل نے 76 اور پی ٹی وی نے 74 پوائنٹس حاصل کیے۔ اوجی ڈی سی ایل کے پوائنٹس کی تعداد 72 رہی۔

اسٹیٹ بینک اور ایم آئی ٹی سلوشنز کے درمیان اس سے قبل چھٹے مرحلے میں اسلام آباد کے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں مقابلہ ہوا تھا، جو ڈرا رہا تاہم ایم آئی ٹی سلوشنز نے پہلی اننگز کی برتری کی بنیاد پر پوائنٹس حاصل کیے تھے۔

ایم آئی ٹی سلوشنز کے اوپنر محمد فاروق فائنل میں ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بننے کے موقع کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ وہ ابتک تین سنچریوں اور دو نصف سنچریوں کے ساتھ 703 رنز بناچکے ہیں جبکہ پی ٹی وی کے محمد طحہ نے لیگ مرحلے کا اختتام تین سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے730 رنز پر کیا ہے۔کنگزمین کے محمد طیب نے727 اور اسٹیٹ بینک کے حسن رضا نے تین سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 698 رنزاسکور کیے ہیں۔

فائنل کے دیگر نمایاں بیٹرز میں ایم آئی ٹی کے عتیق الرحمن545 رنز حسنین ندیم 466 اور اسٹیٹ بینک کے عبداللہ فضل400 رنز شامل ہیں۔

بولنگ میں اوجی ڈی سی ایل کے محمد عامر کی سب سے زیادہ32 وکٹیں ہیں۔کنگزمین کے محمد الیاس کی 31 وکٹیں ہیں۔کے آر ایل کے ارشد اقبال نے30 اور ایم آئی ٹی کے محمد اسمعیل نے 28 اور خالد عثمان نے 25وکٹیں حاصل کی ہیں۔

محمد اسمعیل کے پاس موقع ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بن جائیں۔

اسٹیٹ بینک کو پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عباس کی خدمات بھی حاصل ہیں جنہوں نے تین میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کی ہیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی وکٹوں کی تعداد 931 ہوچکی ہے۔

پریذیڈنٹ ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو 75 لاکھ روپے کی انعامی رقم ملے گی۔رنرز اپ ٹیم کو 40 لاکھ روپے ملیں گے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.