پاکستان پہلی بار ایشین گیمز مینز کرکٹ کے فائنل میں، گولڈ میڈل کے لیے بھارت سے مقابلہ
حسن نواز اور عبدالصمد کی جارحانہ بیٹنگ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو پہلی بار ایشین گیمز کے فائنل میں پہنچادیا جہاں اس کا مقابلہ روایتی حریف بھارت سے ہفتے کے روز ہوگا۔
جمعرات کو کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو 6 وکٹوں سے شکست دیدی۔
دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے سری لنکا کو 124 رنز سے ہرادیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان مینز کرکٹ ٹیم نے ایشین گیمز کے فائنل میں رسائی حاصل کی ہے ۔اس سے قبل 2010 میں اسے افغانستان نے سیمی فائنل میں22 رنز سے ہرایا تھا جس کے بعد پاکستان نے سری لنکا کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا جبکہ 2023میں اسے ایک بار پھر سیمی فائنل میں افغانستان نے 4 وکٹوں سے ہرایا تھا جس کے بعد کانسی کے تمغے کے لیے ہونے والے میچ میں بنگلہ دیش نے اسے 6 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
لگاتار پانچ میچز بارش کی نذر ہوجانے کے بعد بالآخر کرکٹ واپس میدان میں لوٹ آئی تاہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیمی فائنل 13 اوورز تک محدود کردیا گیا۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کو بیٹنگ دی جس نے13 اوورز میں 7 وکٹوں پر 111 رنز بنائے۔
پاکستان نے 112 رنز کا ہدف 11.3 اوورز میں 4 وکٹوں پرحاصل کرلیا۔
پاکستانی اسپنرز کی مؤثر بولنگ کے سبب بنگلہ دیشی ٹاپ آرڈر بیٹرز آزادانہ بیٹنگ نہ کرپائے۔بنگلہ دیشی ٹیم چوتھا اوور ختم ہونے سے پہلے ہی تین وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی جن میں سے تنزید حسین ( 7 ) اور پرویز حسین ایمون ( 1 ) کو عرفات منہاس نے آؤٹ کیا۔ کپتان لٹن داس ( 2 ) کی وکٹ صائم ایوب نے حاصل کی جبکہ ایک چوکے اور دو چھکوں کی مدد سے 19 رنز بنانے والے سیف حسن کو سفیان مقیم نے آؤٹ کیا۔
توحید ہریدوئے اور مصدق حسین نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 53 رنز کا اضافہ کرکے ٹیم کی پوزیشن بہتر کردی۔ توحید نےجارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 4 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 42 رنز اسکور کیے۔ مصدق نے 11 رنز بنائے جس میں ایک چوکا شامل تھا۔دونوں کو سفیان مقیم نے آؤٹ کیا۔ انہوں نے 3 اوورز میں 26 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
عرفات منہاس نے 23 رنز دے کر2 وکٹیں حاصل کیں۔
ابرار احمد مہنگے ثابت انہوں نے 2 اوورز میں 29 رنز دے ڈالے جن میں ایک چوکا اور تین چھکے شامل تھے۔
پاکستان بولرز نے وائیڈ کے 15 رنز دیے۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا۔ کپتان صاحبزادہ فرحان پہلے ہی اوور میں ایک رن بناکر مہدی حسن کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
کیریبئن لیگ میں رنز کے ڈھیر لگانے والے معاذ صداقت اگلے ہی اوور میں نسوم احمد کی گیند پر آؤٹ ہوگئے ۔انہوں نے دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 15 رنز بنائے۔یہ ان کا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تھا۔
صائم ایوب نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 2 چھکوں اور ایک چوکےکی مدد سے21 رنز بنائے لیکن انہوں نے بھی غلط وقت پر اپنی وکٹ گنوائی۔
عثمان خان ایک بار پھر قابل ذکر کارکردگی دکھائے بغیر 14 رنز پر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور چار وکٹوں پر 53 رنز تھا۔
حسن نواز اور عبدالصمد نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے بنگلہ دیشی بولنگ کو غیرمؤثر بنادیا۔
حسن نواز نے 22 گیندوں پر 2 چھکوں اور2 چوکوں کی مدد سے 27 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔
عبدالصمد نے صرف 15 گیندوں پر ایک چھکے اور 5 چوکوں کی مدد سے30 رنزناٹ آؤٹ کی اہم اننگز کھیلی ۔انہوں نے مستفیض الرحمن کے ایک اوور میں ایک چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 22 رنز بناڈالے۔ اس اوور میں مجموعی طور پر 23 رنز بنے
دونوں نے پانچویں وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں59 رنز کا اضافہ کیا۔
دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 7 وکٹوں پر 169 رنز بنائے۔ایشن کشن 80 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔
سری لنکا کی ٹیم جواب میں 9.5 اوورز میں صرف 45 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
یاد رہے کہ بھارت ایشین گیمز مینز کرکٹ کا دفاعی چیمپئن ہے۔
2023 میں افغانستان کے خلاف اس کا فائنل بارش کی نذر ہوگیا تھا تاہم سیڈنگ میں اوپر ہونے کے سبب بھارت کو گولڈ میڈل کا حقدار قرار دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر فائنل بارش کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا تو دونوں ٹیمیں گولڈ میڈل کی حقدار ہونگی۔



Leave a Reply