پریذیڈنٹ ٹرافی میں محمد طیب اور سعود شکیل کی سنچریاں ، نعمان علی کی 7 وکٹیں
پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے چھٹے راؤنڈ کے آخری دن دونوں میچز ڈرا ہوگئے۔ کنگز مین اکیڈمی کے محمد طیب اور سعود شکیل نے غنی گلاس کے خلاف سنچریاں اسکور کیں ۔ غنی گلاس کے نعمان علی نے سات وکٹیں حاصل کیں۔
رانا نوید الحسن اکیڈمی شیخوپورہ میں کنگز مین اکیڈمی کی ٹیم غنی گلاس کے اسکور 417 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ ڈکلیئر کے جواب میں پہلی اننگز میں 347 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
محمد طیب نے 4 چھکوں اور 15 چوکوں کی مدد سے122 رنز بنائے۔ سعود شکیل نے 112 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 13 چوکے شامل تھے۔ یہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی 25 ویں سنچری ہے۔
نعمان علی نے 130 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔
غنی گلاس نے کھیل ختم ہونے پر دوسری اننگزمیں ایک وکٹ پر 8 رنز بنائے تھے
ایل سی سی اے گراؤنڈ لاہور میں ایس این جی پی ایل نے اوجی ڈی سی ایل کے اسکور 351 رنز کے جواب میں پہلی اننگز 9 وکٹوں پر329 رنز بناکر ڈکلیئر کردی۔
عبداللہ شفیق جو گزشتہ روز 105 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے، 185رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ فرحان یوسف نے 32 رنز اسکور کیے۔
اوجی ڈی سی ایل نے دوسری اننگزمیں 2 وکٹوں پر123 رنز بنائے تھے۔
سعد خان نے 59 رنز اسکور کیے۔ علی زریاب آصف 44 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔
پریذیڈنٹ ٹرافی کا ساتواں اور آخری راؤنڈ پیر 19 اکتوبر سے شروع ہوگا۔
ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ اسلام آباد میں پی ٹی وی اور ایم آئی ٹی سلیوشنز کی ٹیمیں مدمقابل ہونگی۔
شعیب اختر اسٹیڈیم راولپنڈی میں کے آر ایل کا مقابلہ ایس این جی پی ایل سے ہوگا۔
نیشنل گراؤنڈ اسلام آباد میں کنگز مین اکیڈمی کا میچ اسٹیٹ بینک سے ہوگا۔
ایل سی سی اے گراؤنڈ لاہور میں اوجی ڈی سی ایل غنی گلاس کا سامنا کرے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جو شیڈول جاری کیا ہے وہ اس کے ڈومیسٹک کرکٹ ڈپارٹمنٹ کی اعلی ترین قابلیت ظاہر کردیتا ہے کہ پانچ روزہ فائنل 24 اکتوبر سے اسٹیٹ بینک اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں رکھا گیا ہے لیکن ساتویں راؤنڈ اور فائنل کے درمیان صرف ایک دن کا وقفہ رکھا گیا ہے۔
یہاں اہم سوال یہ ہے کہ ساتواں راؤنڈ 22 اکتوبر کو ختم ہوگا تو فائنل کی دو ٹیمیں کیا 22 اکتوبر کی رات ہی اسلام آْباد یا لاہور سے کراچی پہنچیں گی یا پھر 23 اکتوبر کو ؟ اور پھر وہ 24 اکتوبر سے فائنل کھیل رہی ہونگی۔
جب راؤنڈ میچوں کے درمیان دو دن کا وقفہ رکھا جاتا رہا ہے تو کیا فائنل سے پہلے دو دن کا وقفہ نہیں رکھا جاسکتا تھا ؟۔آخر فائنل کرانے کی اتنی جلدی کیوں؟

Leave a Reply