URDUپاکستان سہ فریقی سیریز نہ جیتنے کا جمود توڑنے کے لیے ُپرعزم

پاکستان سہ فریقی سیریز نہ جیتنے کا جمود توڑنے کے لیے ُپرعزم

پاکستان کرکٹ ٹیم ہفتے کو جب سری لنکا کے خلاف سہ فریقی ون ڈے سیریز کا فائنل کھیلنے کے لیے قذافی اسٹیڈیم میں داخل ہوگی تو  کپتان  شاہین شاہ آفریدی کے ذہن میں یقینی طور پر یہ بات ہوگی کہ ہوم گراؤنڈ پر تین یا چار ٹیموں پر مشتمل سیریز نہ جیتنے کے جمود کو اس مرتبہ ہر حال میں توڑا جائے۔

پاکستان میں ابتک تین یا چار ٹیموں والی چار ون ڈے سیریز ہوچکی ہیں لیکن میزبان ہونے کے باوجود پاکستان ٹیم ہر بار فاتح بننے سے محروم رہی ہے۔

1994 میں آسٹریلیا جنوبی افریقہ اور پاکستان پر مشتمل سہ فریقی ون ڈے سیریز آسٹریلیا نے جیتی تھی۔فائنل میں اس نے پاکستان کو 69 رنز سے شکست دی تھی۔

1997 میں ہونے والے چار قومی سیریز میں پاکستان سری لنکا ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں شریک تھیں۔ فائنل میں جنوبی افریقہ نے سری لنکا کو 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

2004 میں سری لنکا نے زمبابوے  اور پاکستان کے ساتھ ہونے والی سہ فریقی سیریز کے فائنل میں پاکستان کو 119رنز سے شکست دی تھی۔

2025 میں نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان کھیلی گئی سہ فریقی سیریز کے فائنل میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

سری لنکا کے لیے قذافی اسٹیڈیم لاہور خوش قسمتی کی علامت رہا ہے ۔ یہاں اس نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی  1996 ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کو 7 وکٹوں سے شکست کی صورت میں حاصل کی تھی۔

موجودہ سہ فریقی ون ڈے سیریز میں پاکستان ٹیم  تین اور سری لنکا دو میچ جیت کر فائنل میں پہنچی ہے ۔

سری لنکا کے پون رتنائیکے اس وقت زبردست فارم میں ہیں ۔انہوں نے اس سیریز میں انگلینڈ کے خلاف دو سنچریاں بنائی ہیں اور وہ 350 رنز کے ساتھ سیریز میں سب سے زیادہ  رنز بنانے والے بیٹر ہیں۔ان کی ون ڈے انٹرنیشنل میں تینوں سنچریاں اسی سال انگلینڈ کے خلاف بنی ہیں۔

اوشکا فرنینڈو ، کوسال مینڈس، داسون شناکا ، لیاناگے اور کامندو مینڈس بھی اس سیریز میں عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔

بولنگ میں سری لنکا کی طرف سے مادوشناکا نے سب سے زیادہ 8 وکٹیں حاصل کی ہیں جن میں 34 رنز کے عوض 5 وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل ہے۔

میزبان پاکستان ٹیم اگرچہ فائنل میں پہنچی ہے لیکن اس کا معاملہ  ایک قدم آگے اور دو  قدم پیچھے والا ہے۔

اس نے اپنے پہلے میچ میں سری لنکا کو 37 رنز سے اور دوسرے میچ میں انگلینڈ کو 87رنز سے شکست دی اور پھر تیسرے میچ میں انگلینڈ  ہی کو ڈرامائی انداز میں ایک وکٹ سے ہرایا لیکن آخری لیگ میچ میں وہ سری لنکا کے خلاف مایوس کن انداز میں قذافی اسٹیڈیم میں اپنے دوسرے سب سے کم اسکور 110 پر آؤٹ ہوگئی تھی۔

پاکستان ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کا رہا ہے۔ فخرزمان اور صائم ایوب مکمل طور پر ناکام رہے صائم ایوب کو ریلیز کردیاگیا لیکن فخرزمان ابھی تک بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں اور چار اننگز میں ان کا سب سے بڑا اسکور صرف 16 ہے۔

سعد بیگ نے اپنے ٹیلنٹ کی جھلک دکھائی ہے لیکن اپنے اسکور کو وہ بڑی اننگز میں تبدیل نہیں کرسکے ہیں۔

بابراعظم کے ساتھ بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔ پہلے میچ میں 45 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔دوسرے میچ میں ان کا اسکور34  رنز رہا۔ تیسرے میچ میں وہ 10رنز بناسکے اور آخری لیگ میچ میں وہ 29 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

بابراعظم کی 19 ویں اور 20 ویں ون ڈے  سنچری  کے درمیان  33 اننگز رہی ہیں اور 20 ویں سنچری کے بعد وہ بغیر سنچری کے 8 اننگز کھیل چکے ہیں۔

بابراعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں بغیر سنچری کے ابتک  40 اننگز کھیل چکے ہیں۔

سلمان علی آغا جنہوں نے پہلے میچ میں سنچری بنائی تھی اس کے بعد سے وہ تین اننگز میں 16 ۔26  اور 9 رنز بناسکے ہیں ۔

حسن نواز 37 اور79  رنز کی دو اچھی اننگز کے بعد اگلی دو اننگز میں صرف15 اور 17رنز بناسکے ہیں۔

پاکستان کے نقطہ نظر سے خوش آئند بات نوجوان عرفات منہاس کی پرفارمنس ہے جو 9 وکٹوں کے ساتھ سیریز میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں جس میں 40 رنز کے عوض 6 وکٹوں کی شاندار کارکردگی قابل ذکر ہے۔

شاہین آفریدی نے 8 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں لیکن نسیم شاہ تین میچوں میں صرف تین وکٹیں ہی حاصل کرپائے ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف شاندار سنچری بنانے والے شاداب خان دو میچوں میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.