سلیکشن کی غیرمستقل مزاجی جاری، ٹیسٹ اسکواڈ میں مزید چار کھلاڑی شامل
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز پیر سے شروع ہونے والی ہے لیکن ابھی تک سلیکٹرز اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن پاکستان اسکواڈ کو حتمی شکل دینے میں کامیاب نہیں ہوپارہے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے سے اعلان کردہ 14 رکنی اسکواڈ سے دو کھلاڑیوں کو خارج کردیا گیا ہے اور مزید چار نئے نام اسکواڈ میں شامل کرلیے گئے ہیں۔
یہ بات اس لیے حیران کن ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ اعلان کیا تھا کہ سری لنکا کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے نان فرسٹ کلاس میچ سے دو فاسٹ بولرز پاکستان اسکواڈ میں شامل کیے جائیں گے لیکن اب چار کھلاڑیوں کو اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
جن چار کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے ان میں عامر جمال۔طیب عارف۔ ثاقب خان اور علی شبیر شامل ہیں ۔
جن کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے خارج کیا گیا ہے ان میں عبداللہ فضل اور علی عثمان شامل ہیں۔
عامر جمال نے حالیہ پریذیڈنٹ ٹرافی کے فائنل میں نصف سنچری بنانے کے علاوہ سات وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔ وہ قائداعظم ٹرافی میں لاہور وائٹس کی قیادت بھی کررہے تھے اور فاٹا کے خلاف میچ میں انہوں نے تین وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ 74 رنز کی اننگز بھی کھیلی۔
عامرجمال پاکستان کی طرف سے 9 ٹیسٹ 3 ون ڈے انٹرنیشنل اور 6ٹی ٹوئنٹی کھیل چکے ہیں۔
طیب عارف سری لنکا کے خلاف نان فرسٹ کلاس میچ کھیلے ۔انہوں نے پریذیڈنٹ ٹرافی میں کنگز مین اکیڈمی کی طرف سے تین سنچریوں کی مدد سے 727رنز اسکور کیے تھے۔
فاسٹ بولر ثاقب خان نے گزشتہ سیزن میں کراچی بلوز کو قائداعظم ٹرافی جتوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے47 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
سب سے حیران کن سلیکشن غنی گلاس کے 19 سالہ فاسٹ بولر علی شبیر کا ہے جنہیں کئی ایسے بولرز پر ترجیح دی گئی ہے جن کی کارکردگی ان سے کہیں زیادہ بہتر رہی ہے ۔
علی شبیر نے سری لنکا کے خلاف نان فرسٹ کلاس میچ میں تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ وہ صرف 8 فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں جن میں ان کی صرف 22 وکٹیں ہیں۔
پریذیڈنٹ ٹرافی میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز میں وہ 43 ویں نمبر پر رہے تھے۔
علی عثمان اور عبداللہ فضل کے ساتھ سلیکٹرز اور مائیک ہیسن کا معاملہ حیران کن ہے۔ عبداللہ فضل بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ کھیلے تھے جن میں دو نصف سنچریاں بنائیں۔ وہ ویسٹ انڈیز میں ان فٹ ہوگئے اور وطن واپس بھیج دیے گئے انہیں انگلینڈ بھیجا گیا لیکن کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔ اس سیزن میں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹرپل سنچری بھی بنارکھی ہے۔
علی عثمان ویسٹ انڈیز میں دونوں ٹیسٹ کھیلے جس کے بعد انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلےٹیسٹ میں انہوں نے 95رنز دے کر 5 وکٹوں کی عمدہ کارکردگی دکھائی لیکن لارڈز ٹیسٹ کے بعد انہوں نے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔
پاکستان کا 16 رکنی اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔
بابراعظم ( کپتان ) عامرجمال۔ علی شبیر۔ عرفات منہاس۔ اذان اویس۔ محمد عباس۔ غازی غوری۔ محمدسلیمان۔ محمد طحہ ۔ طیب عارف۔ رضاءاللہ۔ سعدبیگ۔ سلمان علی آغا۔ سمیر منہاس۔ ثاقب خان اور سعودشکیل۔



Leave a Reply