سہ فریقی سیریز: ناقابل شکست پاکستان کا مقابلہ زخمی شیر انگلینڈ سے
شاہین آفریدی کی قیادت میں ناقابل شکست پاکستان کرکٹ ٹیم اتوار کوقذافی اسٹیڈیم میں سہ فریقی ون ڈے سیریز کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرے گی تو اس کا سامنا انگلینڈ سے ہوگا۔
پاکستان ٹیم اپنی جیت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی جبکہ انگلینڈ سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد دوبارہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے میدان میں اترے گی۔
پاکستان نے پہلے میچ میں سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دی تھی جبکہ دوسرے میچ میں اس نے انگلینڈ کو 87 رنز کے واضح فرق سے ہرایا تھا۔
انگلینڈ کے لیے تکلیف دہ صورتحال سری لنکا کے خلاف میچ میں تھی جب اس نے ہیری بروک کی ڈبل سنچری کی بدولت 429 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور کرکے بھی شکست کھائی اور سری لنکا نے ہدف حاصل کرکے سب کو حیران کردیا جس میں اس کے بیٹرز کی شاندار کارکردگی نمایاں رہی تھی۔
پاکستان ٹیم اسوقت فائنل میں جگہ بنانے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ اگر اتوار کو پاکستان کے خلاف انگلینڈ کو شکست ہو جاتی ہے تب بھی انگلینڈ کی فائنل تک رسائی کی معمولی امید باقی رہے گی۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ پاکستان منگل کو سری لنکا کو شکست دے اور پھر انگلینڈ جمعرات کو سری لنکا کے خلاف اتنے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرے کہ اس کا نیٹ رن ریٹ بہتر ہو کر پاکستان اور سری لنکا سے آگے نکل جائے۔
اگر پاکستان اپنے دونوں میچ ہار جاتا ہے اور انگلینڈ سیریز کے چھٹے اور آخری میچ میں سری لنکا کو شکست دے دیتا ہے تو پھر نیٹ رن ریٹ فیصلہ کرے گا کہ فائنل کی ٹیموں کونسی ہونگی۔
دونوں میچوں میں واضح فرق سے فتوحات حاصل کرنے کے باوجود پاکستان نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اسے 2027 کے عالمی کپ کے سلسلے میں اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑی تشویش اب بھی اوپننگ بیٹنگ ہے۔فخرزمان دو میچوں میں صرف 16 رنز بناسکے ہیں جبکہ صائم ایوب صرف 15 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔
بابر اعظم نے اپنی مہارت کی کچھ جھلک دکھائی ہے لیکن وہ بھی بڑی اننگزکھیلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
نوجوان سعد بیگ نے چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے دو میچوں میں 74 رنز اسکور کیے ہیں۔
اس بار پاکستانی ٹیم کے لیے خوش آئند بات یہ رہی ہے کہ مڈل آرڈر نے ذمہ دکھائی ہے ۔ سری لنکا کے خلاف سلمان علی آغا کی سنچری ، انگلینڈ کے خلاف حسن نواز 79 عرفات منہاس 59 اور فہیم اشرف 39 رنز کے ساتھ نمایاں رہے ۔
پاکستانی بولرز نے بھی ہدف کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف عرفات منہاس کی چالیس رنز کے عوض چھ وکٹوں کی کارکردگی فتح کی بنیاد بنی۔ دوسری جانب فاسٹ بولرز کے مجموعی گروپ نے جس میں حارث رؤف، نسیم شاہ، کپتان شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف شامل ہیں، مجموعی طور پر 12
وکٹیں حاصل کی ہیں۔
پاکستان کی پریشانیوں میں صائم ایوب کی بولنگ میں ناکامی بھی شامل ہے۔وہ دس اوورز میں 61 رنز دے کر ایک بھی وکٹ حاصل نہیں کر سکے۔اس صورتِ حال میں ہیڈ کوچ مائیک ہیسن پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ سعد بیگ کو ان کے اصل مقام یعنی اوپننگ پر واپس لائیں اور ان کی جگہ دنیا کے دوسرے نمبر کے بولر ابرار احمد یا سفیان مقیم کو ٹیم میں شامل کریں۔
بابر اعظم سے بھی بڑی اننگز کی توقعات وابستہ ہوں گی۔ دسمبر2022
میں کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ سنچری بنانے کے بعد سے وہ سلیکٹرز، شائقین اور کوچز کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال نومبر میں راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف اپنی 20 ویں ون ڈے سنچری بنائی تھی لیکن اس کے بعد چھ اننگز میں وہ صرف ایک نصف سنچری بناسکے ہیں۔
قذافی اسٹیڈیم میں بابر کا ریکارڈ شاندار ہے۔ انہوں نے یہاں آٹھ ون ڈے میں 59کی اوسط سے 413 رنز بنائے ہیں جس میں دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں شامل ہیں۔
جہاں تک انگلینڈ کا تعلق ہے اس کی واپسی کے امکانات کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی، اگرچہ دو روز قبل ہونے والی شکست میں اس کی ناقص حکمتِ عملی اور رویے نے شاندار بیٹنگ کارکردگی کو بھی بے اثر کر دیا تھا۔
جمعرات کی شکست کے بعد انگلینڈ کے کھلاڑی یقیناً دلبرداشتہ ہوں گے اور وہ اس ناکامی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیں گے۔ مصروف بین الاقوامی شیڈول سے قبل اعتماد بحال کرنے کے لیے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کے خلاف میچ سے بہتر موقع شاید ہی کوئی ہو۔
پاکستان کے برعکس انگلینڈ کی بولنگ بری طرح ایکسپورز ہوئی۔ فیلڈرز بھی بولرز کا ساتھ دینے میں ناکام رہے جس سے وائٹ بال میں ان کی مشکلات مزید نمایاں ہوئیں۔ اوس پڑنے کی صورت میں گیند کو کنٹرول کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے جس نے انگلینڈ کی پریشانیوں میں اضافہ کیا۔
اس بات کا قوی امکان ہے کہ لیگ اسپنر عادل رشید سری لنکا کے خلاف میچ سے باہر رہنے کے بعد ٹیم میں واپس آئیں گے۔ انگلینڈ کے خلاف عرفات منہاس کی چالیس رنز کے عوض چھ وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے غالباً کپتان ہیری بروک اور کوچ برینڈن میک کولم کو عادل رشید کے بجائے لیئم ڈاسن کو کھلانے پر آمادہ کیا تھا لیکن یہ فیصلہ بری طرح غلط ثابت ہوا۔
سام کرن جو انگلینڈ کے قابلِ اعتماد اور پُرعزم بولرز میں شمار ہوتے ہیں کے لیے سو سے زائد رنز دینا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ وہ ون ڈے کرکٹ میں سو یا اس سے زیادہ رنز دینے والے انگلینڈ کے پہلے بولر بن گئے۔ تاہم امکان یہی ہے کہ انہیں ٹیم سے باہر نہیں کیا جائے گا اور انگلینڈ صرف ایک تبدیلی کرے گا جس کے تحت ڈاسن کی جگہ عادل رشید کو شامل کیا جائے گا۔
مجموعی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اتوار کا میچ ایک دلچسپ مقابلہ ثابت ہونے کی توقع ہے جس میں پاکستان کے بولرز اور انگلینڈ کے بیٹرز کے درمیان سخت جنگ ہوگی جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کے بولرز اور پاکستانی بیٹرز کا امتحان بھی ہوگا۔
اس مقابلے کی دلچسپی میں مزید اضافہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ پاکستان سیریز میں اپنے ناقابلِ شکست رہنے کے سلسلے کو برقرار رکھنے کے لیے میدان میں اترے گا جبکہ انگلینڈ سیریز میں اپنی امیدیں زندہ رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔



Leave a Reply