URDUپاکستان نے اپنی ٹیسٹ ٹیم کی شناخت کیسے کھو دی؟

پاکستان نے اپنی ٹیسٹ ٹیم کی شناخت کیسے کھو دی؟

ستمبر 2016میں مصباح الحق لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھڑے تھے، جہاں انہیں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے آئی سی سی  ٹیسٹ چیمپئن شپ کی میس پیش کی۔ یہ اعزاز پاکستان کو ٹیسٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلی بار نمبر ون بننے پر دیا گیا ۔

2003 میں موجودہ عالمی رینکنگ کا نظام متعارف ہونے کے بعد پاکستان نے پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں عالمی نمبر ایک کا مقام حاصل کیا تھا لیکن ایک دہائی بعد صورت حال یہ ہے کہ پاکستان  اسوقت آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 9 ویں اور آخری نمبر پر ہے۔

اعداد و شمار انتہائی تشویش ناک ہیں۔ پاکستان نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی موجودہ  سائیکل  میں 9 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں  جن میں سے صرف 2 جیتے اور 7 میں اسے شکست ہوئی ہے۔

سلو اوور ریٹ کی وجہ سے اس کے 19 پوائنٹس بطور جرمانہ کٹ چکے ہیں جن میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 8 پوائنٹس اور انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں11 پوائنٹس شامل ہیں۔ اس کٹوتی کی وجہ سے اب اس کے پاس صرف 5 پوائنٹس بچے ہیں جو دستیاب مجموعی پوائنٹس کا محض 4.63  فیصد ہیں۔

پاکستان گزشتہ سائیکل میں بھی 9 ویں نمبر پر رہا تھا۔یہ محض جمود نہیں بلکہ مسلسل تنزلی ہے۔

اگر ہم اسکواڈز پر نظر ڈالیں تو اس ورلڈ ٹیسٹ چیمپین شپ سائیکل میں اعلان کیے گئے چھ اسکواڈز میں سلیکشن کمیٹی نے مجموعی طور پر 36    کھلاڑیوں کو موقع دیا ہے۔

اس کمیٹی میں عاقب جاوید، مصباح الحق، سرفراز احمد اور اسد شفیق شامل ہیں جبکہ مائیک ہیسن کو شریک رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ان چھ اسکواڈز میں صرف بابر اعظم اور سعود شکیل ہی ایسے کھلاڑی ہیں جو ہر بار شامل رہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے اعلان کردہ 18 کھلاڑیوں میں سے صرف تین سری لنکا کے خلاف اسکواڈ میں برقرار رہے۔ بارہ کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں صرف ایک بار منتخب کیا گیا اور پھر دوبارہ موقع نہیں دیا گیا،

جبکہ بیس  کھلاڑیوں کو دو یا کم اسکواڈز میں جگہ ملی ۔

کھلاڑیوں کی تبدیلی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والے اسکواڈز میں پاکستان نے پہلے پانچ نئے کھلاڑی شامل کیے، پھر مزید پانچ، اس کے بعد ایک، پھر سات اور پھر پانچ نئے نام شامل کیے۔

چار وکٹ کیپر بیٹرز محمد رضوان، روحیل نذیر، محمد غازی غوری اور سعد بیگ، کو مختلف مواقعوں  پر چھ اسکواڈز میں جگہ دی گئی۔ اسپن بولنگ میں ابرار احمد صرف ایک بار جبکہ نعمان علی دو بار منتخب ہوئے۔ ساجد خان جو77 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرچکے ہیں پانچ اسکواڈز کا حصہ رہے لیکن اب وہ بھی ٹیم سے باہر ہیں۔

ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والوں کے لیے بھی کوئی تسلسل نہیں۔

موجودہ سائیکل میں 9  کھلاڑیوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا ہے۔آصف آفریدی ( راولپنڈی)  عبداللہ فضل اور اذان اویس  ( میرپور ) علی عثمان ( تاروبا) اویس ظفر اور عبید شاہ (  پورٹ آف اسپین ) جبکہ غازی غوری، محمد عمران اور رضاء اللہ، ان تینوں نے ایجبسٹن میں ڈیبیو کیا۔

ان نو میں سے چار کھلاڑی، آصف آفریدی، اویس ظفر، عبید شاہ اور محمد عمران، سری لنکا کے خلاف اسکواڈ میں شامل نہیں ہیں۔

آصف آفریدی نے جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں 79 رنز دے کر 6  وکٹیں حاصل کیں لیکن اگلی سیریز کے لیے انہیں منتخب ہی نہیں کیا گیا۔

قیادت بھی غیر یقینی کا شکار رہی

9 ٹیسٹ میچوں کے دوران پاکستان کی قیادت تین کھلاڑیوں نے کی

شان مسعود نے چار ٹیسٹ میچوں میں، جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے خلاف؛ بابر اعظم نے چار میچوں میں، ویسٹ انڈیز کے خلاف اور انگلینڈ کے خلاف آخری دو ٹیسٹ میں جبکہ سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں قیادت کی۔

بابر اعظم دو ٹیسٹ میچوں میں دستیاب نہیں تھے ایک بنگلہ دیش کے خلاف اور دوسرا انگلینڈ میں۔ سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی، اگلا ٹیسٹ نہیں کھیلا اور لارڈز ٹیسٹ کے بعد انہیں اسکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا۔

انفرادی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کن کھلاڑیوں کو باہر کیا گیا

شان مسعود موجودہ سائیکل  میں پاکستان کے سب سے زیادہ 546 رنز بنانے والے بیٹر ہیں جس میں ویسٹ انڈیز میں سنچری اور ایجبسٹن میں 95 رنز شامل ہیں  اس کے باوجود وہ سری لنکا کے خلاف اسکواڈ میں شامل نہیں ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی عدم شمولیت کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ہمسٹرنگ انجری کا شکار ہیں جس کے باعث وہ پریذیڈنٹ ٹرافی کے آخری چند میچ بھی نہیں کھیل سکے۔

بابراعظم دوسرے سب سے کامیاب بیٹر ہیں جنہوں نے 536 رنز بنائے ہیں۔انہوں نے پانچ نصف سنچریاں بنائی ہیں لیکن کوئی سنچری اسکور نہیں کرسکے ہیں۔

پاکستان کے پانچ سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹرز میں سے تین شان مسعود 546رنز۔ محمد رضوان 409  رنز اور عبداللہ شفیق 374  رنز) سری لنکا کے خلاف سیریز سے باہر ہیں۔

پاکستان نے 9 ٹیسٹ میچوں میں صرف 3سنچریاں بنائی ہیں عبداللہ شفیق کے ناقابلِ شکست 160 رنز، شان مسعود  103 رنز اور اذان اویس 109 رنز۔ان میں سے دو شان مسعود اور عبداللہ شفیق اب ٹیم میں شامل نہیں۔

عبداللہ شفیق نے 160 رنز کی اننگز کے بعد انگلینڈ میں چھ اننگز میں صرف 84 رنز بنائےاس لیے انہیں ڈراپ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا جاسکتا ہےلیکن یہ فیصلہ بھی اسی رجحان کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس میں کھلاڑیوں کو تیزی سے اوپر لایا جاتا ہے اور پھر اتنی ہی تیزی سے باہر کر دیا جاتا ہے۔

بولنگ میں بھی یہی صورت حال ہے

37 سالہ محمد عباس موجودہ سائیکل میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولررہے  انہوں نے 6 ٹیسٹ میں 31  وکٹیں حاصل کیں جن میں تین مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کی کارکردگی بھی شامل ہے۔

ان کے بعد نعمان علی، خرم شہزاد اور ساجد خان کے نام ہیں جنہوں نے اٹھارہ اٹھارہ حاصل کیں جبکہ محمد علی نے 17 وکٹیں حاصل کیں۔ وکٹیں

پاکستان کے ان پانچ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز میں سے صرف محمد عباس کو سری لنکا کے خلاف اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

نعمان علی نے جنوبی افریقہ کے خلاف 14 وکٹیں حاصل کیں لیکن انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں منتخب نہیں کیا گیا۔

ساجد خان نے پورٹ آف اسپین میں اپنے آخری ٹیسٹ میچ میں 14 کی شاندار اوسط سے 8 وکٹیں حاصل کیں لیکن انگلینڈ میں انہیں ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

شاہین آفریدی  نے دس اور حسن علی نے آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔دونوں نے ابتدائی دو سیریز میں حصہ لیا لیکن بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد انہیں کسی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔

سلیکٹرز نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شاید خراب فارم یا ورک لوڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں باہر رکھا گیا ہو۔ تاہم صرف ورک لوڈ مینجمنٹ کی بنیاد پر ان کی مسلسل عدم شمولیت کو سمجھنا مشکل ہے کیونکہ وہ اس کے بعد کسی بھی اسکواڈ کا حصہ نہیں بنے۔

سری لنکا کے خلاف اسکواڈ میں شان مسعود، ساجد خان، محمد رضوان، امام الحق اور محمد علی کو بھی شامل نہیں کیا گیا، اور اس بار بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ رضوان اور امام الحق کو بعض تحقیقات کا سامنا ہے، حالانکہ دونوں کو پریذیڈنٹ ٹرافی کے ساتویں اور آخری راؤنڈ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی۔ نہ پی سی بی اور نہ ہی تحقیقات کرنے والے ادارے نے اس معاملے پر کوئی بیان دیا ہے۔

انگلینڈ میں ہونے والی تبدیلیاں سب سے نمایاں مثال ہیں

انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ ہارنے کے بعد پی سی بی نے سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے ریلیز کر دیا اور ان کی جگہ سات نئے کھلاڑی انگلینڈ بھیجے جن میں سے پانچ نے اس سے پہلے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا تھا۔

ایجبسٹن ٹیسٹ میں تین کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا اور پاکستان آٹھ وکٹوں سے میچ ہار گیا۔ یوں انگلینڈ نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو تین صفر سے شکست دے دی۔

ایجبسٹن ٹیسٹ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں میں سے صرف چھ اب سری لنکا کے خلاف 14رکنی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

سلیکٹرز کا مؤقف ہو سکتا ہے کہ خراب نتائج نے انہیں سخت فیصلے کرنے پر مجبور کیا اور اس دلیل میں وزن بھی ہے۔ موجودہ سائیکل  میں سب سے زیادہ

مستحکم رہنے والے اسکواڈ کے سترہ میں سے سولہ کھلاڑی ویسٹ انڈیز کی سیریز کے بعد بھی برقرار رکھے گئے تھے لیکن یہی ٹیم انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ ہار گئی۔اس سے واضح ہے کہ صرف کھلاڑیوں کے نام برقرار رکھنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

لیکن کھلاڑیوں کے نام برقرار رکھنا اور ایک واضح منصوبہ ہونا دو الگ باتیں ہیں۔اصل مسئلہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے

ایک مضبوط ٹیسٹ ٹیم واضح ذمہ داریوں، ایک مستحکم بنیادی گروپ اور ایسے نظام کے ذریعے بنتی ہے جو نوجوان کھلاڑی کو بتائے کہ ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے اسے کیا کرنا ہوگا۔

پاکستان کی موجودہ ٹیم میں ان تینوں چیزوں کی واضح جھلک نظر نہیں آتی۔

جو بیٹر یہ جانتا ہو کہ ایک خراب اننگز اس کا ٹیسٹ کیریئر ختم کر سکتی ہے، وہ آزادی کے ساتھ نہیں کھیل سکتا۔ اسی طرح جو بولر یہ نہ جانتا ہو کہ وہ نئی گیند سے بولنگ کرنے والا اہم کھلاڑی ہے یا صرف متبادل کے طور پر موجود ہے، وہ اپنی تیاری درست انداز میں نہیں کر سکتا۔

ٹیم سے باہر کیے جانے والے بعض کھلاڑی ایسے بھی تھے جو مسلسل ناکام نہیں ہو رہے تھے۔

ایجبسٹن میں رضاء اللہ کے 81 رنز اور چار وکٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے۔ اصل کمی تسلسل کی ہے۔

نقصان صرف پوائنٹس ٹیبل تک محدود نہیں

شائقین ان ٹیموں سے جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں جن کے کھلاڑیوں کو وہ پہچانتے ہیں لیکن پاکستان کے ان اسکواڈز میں بہت کم کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں ایک سیریز سے دوسری سیریز تک مسلسل دیکھا جا سکے۔

مصباح الحق کے دور میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم نے صبر، استحکام اور مستقل مزاجی کی بنیاد پر اپنی ایک شناخت بنائی تھی۔ یہ شناخت پاکستان کرکٹ کے برانڈ کا اہم حصہ تھی۔

اب سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سلیکٹرز کی سوچ کا اگلا امتحان ہوگی۔ پہلا ٹیسٹ 9 نومبر سے راولپنڈی اور دوسرا 17 نومبر سے لاہور میں کھیلا جائے گا۔

اگر موجودہ اسکواڈ کسی واضح منصوبے کا آغاز ہے تو اگلے بارہ ماہ میں اس منصوبے کے نتائج اور خدوخال نظر آنے چاہییں لیکن اگر یہ اسکواڈ بھی محض ایک اور عارضی انتخاب ہے جسے اگلی سیریز میں بدل دیا جائے گا تو پوائنٹس ٹیبل خود اس فیصلے کی حقیقت بیان کر دے گا۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.