سہ فریقی سیریز سے ورلڈ کپ کی تیاری کا آغاز
پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دینے کے بعد اب ون ڈے سیریز میں بھی اس کے مقابل ہورہی ہے لیکن اس سیریز میں اس کا مقابلہ صرف سری لنکا سے نہیں ہے بلکہ انگلینڈ کی ٹیم بھی اس سیریز میں اس کے سامنے ہے۔
اس سیریز کو ورلڈ کپ 2027 کے لیے پاکستان ٹیم کی تیاری کا آغاز بھی کہا جاسکتا ہے جو آئندہ سال جنوبی افریقہ نمیبیا اور زمبابوے میں منعقد ہوگا۔
سہ فریقی ون ڈے سیریز کا آغاز 18 اکتوبر کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان راولپنڈی میں میچ سے ہورہا ہے ۔20 اکتوبر کو پاکستان ٹیم راولپنڈی میں ہی انگلینڈ کا سامنا کرے گی۔ 22 اکتوبر کو راولپنڈی میں سیریز کا تیسرا میچ انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہوگا جس کے بعد 31 اکتوبر کے فائنل سمیت چار میچز لاہور میں کھیلے جائیں گے۔
پاکستان ٹیم کی قیادت شاہین آفریدی کررہے ہیں۔ سری لنکا کے کپتان کوسال مینڈس ہیں جبکہ انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک ہیں۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے بعد سے پاکستان نے 6 ون ڈے سیریز کھیلی ہیں جن میں سے اسے ملک سے باہر کھیلی گئی تینوں سیریز میں نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس نے ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ ، سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتی ہیں۔
انگلینڈ نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے بعد سے 6 ون ڈے سیریز کھیلی ہیں جن میں سے 4 جیتی ہیں جن میں آخری 3 سیریز شامل ہیں۔
سری لنکا نے اپنی آخری 10 ون ڈے سیریز میں 6 جیتی ہیں اور 4 میں اسے شکست ہوئی ہے۔
انگلینڈ کی بیٹنگ جو روٹ ( 7903 ون ڈے رنز ) ہیری بروک ( 1530رنز ) اور بین ڈکٹ ( 1628رنز ) پر انحصار کرے گی جبکہ بولنگ لائن میں سب سے تجربہ کار بولر عادل رشید 243 وکٹوں کے ساتھ موجود ہیں ۔ ان کے علاوہ سام کرن ، گس اٹکنسن ، لیئم ڈاسن ، ول جیکس اور جوش ٹنگ بھی موجود ہیں۔
انگلینڈ کو اس سہ فریقی سیریز میں جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور جوز بٹلر کی کمی محسوس ہوگی جو ہمسٹرنگ کی سرجری کے سبب اسوقت کرکٹ سے دور ہیں۔
انگلینڈ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اسپنر عادل رشید ہاتھ کی انجری سے صحت یاب ہوکر اب ٹیم میں موجود ہیں اسی طرح سام کرن بھی گروئن انجری سے صحت یاب ہوکر اسکواڈ کا حصہ بن گئے ہیں۔فاسٹ بولر جوفرا آرچر کو آرام کی غرض سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
انگلینڈ کے سولہ رکنی اسکواڈ میں تین نئے کھلاڑی میسن کرین، ہنری کروکومبے اور جیمز کولز شامل ہیں۔ لیگ اسپنر میسن اس سے قبل ایک ٹیسٹ اور دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں انگلینڈ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
سری لنکا کو بھی اپنے تجربہ کار بیٹر پاتھوم نسانکا کی کمی محسوس ہوگی جنہیں اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا لیکن ہمسٹرنگ کی تکلیف سے مکمل صحت یاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ سہ فریقی سیریز سے باہر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ لاہیرو اودارا کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
سری لنکا کی بیٹنگ کوسال مینڈس ( 5160 رنز ) جنتھ لیالانگے ( 1089 رنز ) کامندو مینڈس،اوشکا فرنینڈو ( 1589 رنز ) اور داسون شاناکا ( 1299 رنز ) پر انحصار کرے گی۔
سری لنکن بولرز میں ٹیکشانا ( 81 وکٹ ) دوشمنتھا چمیرا ( 70 وکٹ ) دلشن مادوشانکا ( 54 وکٹ ) اسیتھا فرنینڈو ( 46 وکٹ ) اور دونیتھ ویلالاگے ( 45 وکٹ ) نمایاں ہیں۔
پاکستان ٹیم ایک بڑے اسکور کے لیے فخرزمان ، بابر اعظم، حسن نواز اور سلمان علی آغا کی طرف دیکھے گی۔
اس کا بولنگ اٹیک شاہین آفریدی ، حارث رؤف ، نسیم شاہ، شاداب خان، سفیان مقیم ، ابرار احمد ، صائم ایوب اور عرفات منہاس کی موجودگی میں مضبوط دکھائی دیتا ہے۔
سہ فریقی سیریز کا شیڈول ۔
18 اکتوبر۔ پاکستان بمقابلہ سری لنکا ۔ راولپنڈی۔
20 اکتوبر۔ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ۔ راولپنڈی۔
22 اکتوبر۔ انگلینڈ بمقابلہ سری لنکا۔ راولپنڈی۔
25 اکتوبر ۔ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ۔ لاہور۔
27 اکتوبر۔ پاکستان بمقابلہ سری لنکا ۔ لاہور ۔
29 اکتوبر۔ انگلینڈ بمقابلہ سری لنکا۔ لاہور۔
31 اکتوبر۔ فائنل۔ لاہور۔



Leave a Reply