بھارت گولڈ میڈل جیتا اور پاکستان سلور میڈل ، دل حسن نواز نے جیت لیے
ایشین گیمز2026 میں پاکستان کے پہلے گولڈ میڈل کی آخری ُامید مینز کرکٹ ٹیم سے وابستہ تھی لیکن وہ روایتی حریف بھارت کو فائنل میں شکست دینے میں کامیاب نہ ہوسکی اور اسے چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔
بھارت نے حسن نواز کے چیلنج پر قابو پاتے ہوئے 19 رنز کی کامیابی کے ساتھ اپنے ایشین گیمز ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرلیا۔
اس سے قبل بھارت کی خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں یہ بھارت کی پاکستان کے خلاف 18 میچوں میں 15 ویں کامیابی ہے۔ پاکستان نے صرف 3 میچ جیتے ہیں۔
ہفتے کے روز کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 211 رنز بناڈالے جو اس کا پاکستان کے خلاف سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔ اس سے قبل اس نے دسمبر 2012میں 5 وکٹوں پر192 رنز بنائے تھے
جواب میں پاکستان ٹیم 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 192 رنز تک پہنچ پائی۔
بھارت نے اپنی اسی ٹیم کو برقرار رکھا جس نے سیمی فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی۔ پاکستان نے ایک تبدیلی کی اور محمد وسیم جونیئر کی جگہ سعد مسعود کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ڈیبیو کا موقع فراہم کیا۔
بھارت کی اننگز کی خاص بات ابھیشک شرما اور تلک ورما کی جارحانہ بیٹنگ تھی۔ ابھیشک شرما نے صرف 20 گیندوں پر 3چوکوں اور 6چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی۔وہ 28 گیندوں پر 3چوکوں اور 7چھکوں کی مدد سے 61 رنز بناکر عرفات منہاس کی گیند پر عثمان خان کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوئے تو بھارت کا اسکور 8 ویں اوور میں 3 وکٹوں پر 98 رنز تک جا پہنچا تھا۔
ابھیشک شرما کی جارحانہ بیٹنگ کے نتیجے میں بھارت نے پاور پلے میں صرف 2 وکٹوں پر 81 رنز بناڈالے۔ یہ دو وکٹیں ویبھاؤ سوریا ونشی اور سنجو سیمسن کی تھیں۔ سوریا ونشی 2 چھکوں کی مدد سے 15 رنز بناکر صائم ایوب کی گیند پر عثمان خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے ۔ سنجو سیمسن کو 2 رنز پر عرفات منہاس نے احمد دانیال کی گیند پر کیچ کیا۔
اشن کشن 2 چوکوں کی مدد سے20 رنز بناکر عرفات منہاس کی گیندپر بولڈ ہوگئے۔
کپتان شریاس ائر 2 چوکوں کی مدد سے 21 رنز بناکر ابرار احمد کی گیند پر صاحبزادہ فرحان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
133 رنز پر پانچ وکٹیں گرجانے کے بعد تلک ورما اور شیوم ڈوبے کی جارحانہ بیٹنگ نے اسکور کو 211 تک پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
تلک ورما نے صرف 22 گیندوں پر 4 چھکوں اور 3چوکوں کی مدد سے 51 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔
شیوم ڈوبے کی 27 رنز کی اننگز میں 2 چھکے اور 2چوکے شامل تھے۔دونوں کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 62 رنز بنے۔
عرفات منہاس 25 رنز کے عوض2 وکٹوں کے ساتھ کامیاب رہے۔ احمد دانیال نے 2 وکٹیں 43رنز دے کر حاصل کیں ۔ ابرار احمد نے29 رنز کے عوض ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔صائم ایوب کو ایک وکٹ 47 رنز کے عوض حاصل ہوئی۔سفیان مقیم اور سعد مسعود نےکسی کامیابی کے بغیر 33 ۔ 33 رنز دے ڈالے۔
پاکستان کی فیلڈنگ بھی خاصی مایوس کن رہی۔صائم ایوب نے ایک ہی اوور میں ابھیشک شرما کا 39 رنز پر اور شریاس ائر کا ایک رن پر کیچ ڈراپ کردیا۔ 53 رنز پر ابھیشک شرما کا کیچ ابرار احمد نے اپنی ہی گیند پر ڈراپ کیا اور پھر عثمان خان بھی ابھیشک شرما کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔ تلک ورما کا کیچ اننگز کی آخری گیند پر سفیان مقیم نے ڈراپ کیا۔
پاکستان کا جارحانہ آغاز زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔صاحبزادہ فرحان چوتھے ہی اوور میں ایک چوکے کی مدد سے 10 رنز بناکر واشنگٹن سندر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
عثمان خان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کوئی بڑی اننگز نہ کھیلنے کی روایت برقرار رکھی اور صرف 3 رنز بناکر اکشر پٹیل کی گیندآؤٹ ہوگئے۔
معاذ صداقت 3چوکوں کی مدد سے 23 رنز بناکراکشر پٹیل کی گیند پر واشنگٹن سندر کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔اسوقت اسکور 3 وکٹوں پر صرف 39 رنز تھا۔
حسن نواز نے اس مشکل صورتحال میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 51 گیندوں پر 5 چوکوں اور 7 چھکوں کی مدد سے 96 رنز بنائے اور میچ کو آخری اوور تک لے گئے۔
وہ جب تک کریز پر رہے پاکستان کی امیدیں برقرار رہیں لیکن پاکستان کو آخری اوور میں جیت کے لیے33 رنز درکار تھے۔شیوم ڈوبے کے اس اوورمیں حسن نواز نے ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا لیکن آخری گیند پر وہ آؤٹ ہوگئے۔
صائم ایوب مایوس کن بولنگ اور فیلڈنگ کا ازالہ بیٹنگ میں کرنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکے اور 29 رنز بناکر شیوم ڈوبے کی گیند پرواشنگٹن سندر کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
انہوں نے حسن نواز کےساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 87 رنز کا اضافہ کیا۔
عبدالصمد صرف 9 رنز بناکر واشنگٹن سندر کی دوسری وکٹ بنے۔سعد مسعود 2 چھکوں کی مدد سے 12 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے ۔
بھارت کے نمبر ایک بولر جسپرت بمرا وکٹ سے محروم رہے اور ان کے چار اوورز میں33 رنز بنے۔
اس سے قبل تیسری پوزیشن کے میچ میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو 63 رنز سے ہراکر کانسی کا تمغہ حاصل کرلیا۔



Leave a Reply