URDUپاکستان نے ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیت لیا ، بھارت کاگولڈ میڈل

پاکستان نے ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیت لیا ، بھارت کاگولڈ میڈل

دو بار کی گولڈ میڈلسٹ پاکستان ویمنز  نے ایشین گیمز کے تیسری پوزیشن کے میچ میں بنگلہ دیش ویمنز کو 31 رنز سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا۔

دوسری جانب فائنل میں  بھارت نے  سری لنکا کو 147 رنز سے شکست دے کر اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا اور ایک بار پھر گولڈ میڈل جیت لیا۔

2022 کے ایشین گیمز میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو کانسی کے تمغے کے میچ میں  5 وکٹوں سے شکست دی تھی لیکن اس مرتبہ نتیجہ  پاکستان کے حق میں رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے2010 اور 2014 میں جب گولڈ میڈل جیتا تھا تو دونوں فائنل میں اس نے بنگلہ دیش کو ہرایا تھا۔

پاکستان ویمنز  کی بنگلہ دیش ویمنز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں یہ 17 ویں کامیابی ہے جو اس کی کسی بھی ملک کے خلاف سب سے زیادہ کامیابیاں ہیں ۔اس نے اس سے قبل  بنگلہ دیش اور آئرلینڈ کے خلاف سولہ سولہ میچز جیتے تھے۔

اس سال کھیلے گئے  25  ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں یہ پاکستان ویمنز کی 10 ویں کامیابی ہے۔13 میچوں میں اسے شکست  ہوئی ہے اور 2 میچز نتیجہ خیزثابت نہیں ہوئے ہیں

منگل کے روز کھیلے گئے میچ میں پاکستان  نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور 20 اوورز میں8 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنائے۔

بنگلہ دیش  کی ٹیم  جواب میں  20  اوورز میں 7 وکٹوں پر 114 رنزبناسکی۔

پاکستان  کی اننگز میں ایک بار پھر کپتان فاطمہ ثنا نمایاں رہیں ۔انہوں نے 30 گیندوں پر 3 چھکوں اور3 چوکوں کی مدد سے 45 رنز اسکور کیے۔

انہوں نے عالیہ ریاض کے ساتھ چھٹی وکٹ کی شراکت میں 67 رنز کا اضافہ کیا۔ عالیہ ریاض نے  22 گیندوں پر25  رنز بنائے جس میں ایک چوکا اور 2 چھکے شامل تھے۔یہ ان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 100 ویں اننگز تھی۔

گل فیروزہ نے 6 چوکوں کی مدد سے 31 رنز اسکور کیے۔شوال ذوالفقار نے17 رنز کی اننگز کھیلی۔ان دونوں نے ٹیم کو 46 رنز کا اسٹارٹ دیا۔

سائرہ جبین 5 عائشہ ظفر 9 اور ایمان فاطمہ صفر پر آؤٹ ہوئیں۔

ایمان فاطمہ زمبابوے کی کمزور بولنگ پر 79 رنز اسکور کرنے کے بعد سے 11 ٹی ٹوئنٹی اننگز میں صرف 1۔ 0۔5۔30۔5۔1۔5۔1۔7۔5 ناٹ آؤٹ اور 0  بنانے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔

شورنا اختر۔ریتو مونی اور ناہیدہ اختر نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

بنگلہ دیش  کی اننگز میں  شرمین اختر 46 ناٹ آؤٹ اور کپتان نگار سلطانہ  25 رنز بناکر نمایاں رہیں۔

ام ہانی نے کریئر بیسٹ بولنگ کرتے ہوئے صرف 10 رنز دے کر3 وکٹیں حاصل کیں ۔

فاطمہ ثنا  ایک وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ ہی ایک کلینڈر سال میں سب سے زیادہ 31  ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل  وکٹیں حاصل کرنے والی پاکستانی بولر بن گئیں۔اس سے قبل سعدیہ اقبال نے 2024 میں 30 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

سائرہ جبین نے چار کیچز لے کر پاکستان کا ریکارڈ برابر کردیا۔اس سے قبل فاطمہ ثنا نے 2024 میں نیوزی لینڈ کے خلاف دبئی میں چار کیچز لیے تھے۔

اس ایونٹ میں پاکستان ٹیم نے کوارٹرفائنل میں تھائی لینڈ کو 3 وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ سیمی فائنل میں اسے سری لنکا کے خلاف 8 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بنگلہ دیش اور چین  کا کوارٹرفائنل بارش کی وجہ سے نہیں ہوسکا تھا اور بنگلہ دیش نے بہتر سیڈنگ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی جہاں اسے بھارت نے 114 رنز سے شکست دی تھی۔

فائنل میں بھارت ویمنز نے 20 اوورز میں 3 وکٹوں پر 216 رنز بنائے ۔ سمرتی مندھانا نے 7 چھکوں اور5 چوکوں کی مدد سے 79رنز اسکور کیے۔ شفالی ورما نے48 رنز بنائے ان دونوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 99 رنز کا اضافہ کیا۔ریچاگوش نے  49 ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی۔

سری لنکا ویمنز جواب میں 15.4 اوورز میں  صرف  69 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ کپتان چماری اتاپتو 29 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہیں۔ دیپتی شرما نے تین جبکہ شری چرانی ۔شریانکا پاٹل  اور شفالی ورما نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.