سری لنکا نے تیسرا ٹی ٹوئنٹی 8 وکٹوں سے جیت لیا، مینڈس سینئر اور مینڈس جونیئر کی میچ وننگ پارٹنرشپ
پاکستان ٹیم سری لنکا کو وائٹ واش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی اور اسے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 8 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سری لنکا کی اس جیت میں سری لنکا کی منظم بولنگ اور فیلڈنگ کے ساتھ ساتھ کپتان کوسال مینڈس اور کامندو مینڈس کی میچ وننگ پارٹنرشپ نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان نے پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل 4 وکٹوں سے اور دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ریکارڈ 82 رنز کے مارجن سے جیتا تھا۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا نے سیریز میں لگاتار تیسری مرتبہ ٹاس جیتا اور پاکستان کو پہلے بیٹنگ دی جس نے 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 168رنز بنائے۔
سری لنکا نے جواب میں 17.1 اوورز میں دو وکٹوں پر ہدف حاصل کرلیا
پاکستان نے اس میچ میں چار تبدیلیاں کیں۔ شاداب خان، ابرار احمد، نسیم شاہ اور صائم ایوب کی جگہ سفیان مقیم ، عرفات منہاس، عبدالصمد اور رضاء اللہ کو سیریز کے آخری میچ میں موقع دیا گیا۔
پاکستان کی بیٹنگ اس سیریز میں پہلی بار مشکلات میں دکھائی دی۔ ابتدائی دو وکٹیں ایشان مالنگا کے پہلے اور اننگز کے چوتھے اوور میں گرگئیں۔ فخرزمان ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 12 رنز بناکراودارا کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ انہوں نے اس ایک چھکے کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنے چھکوں کی سنچری بھی مکمل کرلی۔وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بیٹر ہیں۔
معاذ صداقت آج کھاتہ کھولے بغیر ہی مالنگا کی گیند پر وکرماسنگھے کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
کپتان صاحبزادہ فرحان نے اپنی شاندار فارم جاری رکھتے ہوئے سیریز میں لگاتار تیسری نصف سنچری اسکور کی اور 47 گیندوں پر 76 رنز بنائے جس میں 7 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ وہ اننگز کے آخری اوور میں آؤٹ ہونے والے ساتویں بیٹر تھے۔
حسن نواز کا کریز پر قیام مختصر رہا اور وہ دو چوکوں کی مدد سے 16 رنز بناکر ویاس کانتھ کی گیند پر کامندو مینڈس کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ اسوقت پاکستان کا اسکور تین وکٹوں پر67 رنز تھا۔
اور جب خواجہ نافع 3 رنز کی ایک اور مایوس کن کارکردگی دکھاکر داسون شاناکا کے پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور 10 ویں اوور میں 4 وکٹوں پر صرف 72 رنز تھا۔
عمران رندھاوا 6 اور عبدالصمد ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے 15 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور 6 وکٹوں پر102 رنز تھا۔
عرفات منہاس نے صرف 20 گیندوں پر 2 چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے 34 رنز ناٹ آؤٹ کی اہم اننگز کھیلی اور صاحبزادہ فرحان کے ساتھ ساتویں وکٹ کی شراکت میں 66 رنز کا اضافہ بھی کیا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی سب سے بڑی پارٹنرشپ ہے۔ اس سے قبل 2025 میں شاداب خان اور فہیم اشرف نے بنگلہ دیش کے خلاف لاہور میں رنز کی شراکت قائم کی تھی۔
داسون شاناکا نے 21 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں
سری لنکا کی اننگز کے دوسرے ہی اوور میں عمران رندھاوا نے لاہیرو اودارا کی وکٹ حاصل کرلی لیکن سینتھ جے وردھنے اور کپتان کوسال مینڈس نے اسکور میں 59رنز کا اضافہ کیا۔ جے وردھنے 2چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 38رنز بناکر عرفات منہاس کی گیند پر رضاء اللہ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔وہ اسی اوور میں خواجہ نافع کے ہاتھوں اسٹمپڈ اور عرفات منہاس ہی کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے تھے۔
کوسال مینڈس نے پچھلی دو ناکام اننگز کی تلافی 87 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کے ساتھ کردی جس میں 9 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔اس اننگز نے سری لنکا کو جیت کی راہ پر بھی گامزن کردیا۔ یہ ان کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے بہترین انفرادی اسکور بھی ہے۔
وہ سری لنکا کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بھی بن گئے۔
کامندو مینڈس نے بھی اپنے کپتان کا اچھا ساتھ دیتے ہوئے تیسری وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں98 رنز کا اضافہ کیا۔انہوں نے 40 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی جس میں4 چوکے شامل تھے۔
پاکستانی بولرز کے لیے یہ شام اچھی نہیں رہی ۔ سری لنکن بیٹرز آج ان کے قابو میں آنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ ایک اور مایوس کن پہلو خواجہ نافع کی وکٹ کیپنگ بھی تھی۔
اب پاکستان سری لنکا اور انگلینڈ کی ٹیمیں 18 اکتوبر سے سہ فریقی ون ڈے سیریز میں مدمقابل ہونگے جس کا پہلا میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔



Leave a Reply