URDUشاداب خان کی سنچری نے ناممکن کو ممکن کردکھایا ، پاکستان فائنل میں

شاداب خان کی سنچری نے ناممکن کو ممکن کردکھایا ، پاکستان فائنل میں

شاداب خان نے اپنی زندگی کی یادگار ترین اننگز کھیل کر پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف ایک وکٹ کی ڈرامائی جیت کے ساتھ سہ فریقی ون ڈے سیریز کے فائنل میں پہنچادیا ۔
شاداب خان نے نہ صرف ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری اسکور کی بلکہ اپنا بھرپور ساتھ دینے والے حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت میں 89 رنز کی شراکت بھی قائم کرکے پاکستان کو اس کی ون ڈے تاریخ کی چند یادگار کامیابیوں میں سے ایک کامیابی دلادی ۔
اس میچ کا سب سے ڈرامائی موڑ اسوقت آیا جب 91 رنز پر شاداب خان کو اٹکنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا گیا لیکن ریویو نے اس فیصلے کو غلط ثابت کردیا۔ اسوقت پاکستان ٹیم کو جیت کے لیے21 رنز درکار تھے۔

یہ اس سہ فریقی ون ڈے سیریز میں پاکستان کی لگاتار تیسری کامیابی ہے جبکہ انگلینڈ کی ٹیم لگاتار تیسرا میچ ہاری ہے۔
اتوار کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں سیریز کے دوسرے مرحلے کے پہلے میچ میں شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو بیٹنگ دی۔
پاکستان نے دو تبدیلیاں کرتے ہوئے فہیم اشرف اور نسیم شاہ کی جگہ شاداب خان اور رضاء اللہ کو ٹیم میں شامل کیا۔ رضاء اللہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے پاکستان کے 263 ویں کھلاڑی بنے ۔
لیفٹ آرم اسپنر سفیان مقیم کو ون ڈے اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیا ہے اور بائیں ہاتھ کے بیٹر معاذ صداقت کو اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔
دوسری جانب انگلینڈ نے ہنری کروکمب کو ون ڈے کیپ دی۔
انگلینڈ کی ٹیم 46.4 اوورز میں 241 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
یہ اس سیریز میں لگاتار تیسرا میچ ہے جس میں پاکستان ٹیم نے حریف ٹیم کو آل آؤٹ کیا ۔
پاکستان نے 47.1 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا۔
انگلینڈ کی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار رہی اور وہ پاور پلے میں ہی چار وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔
شاہین آفریدی نے اپنی پرانی عادت کی جھلک دکھاتے ہوئے پہلے ہی اوور میں ٹام بینٹن کو 4 رنز پر عرفات منہاس کے ہاتھوں کیچ کراکر ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی 150 ویں وکٹ حاصل کی اور پھر اپنے اگلے ہی اوور میں جو روٹ کو بھی 5 رنز پر صائم ایوب کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔
سری لنکا کے خلاف ڈبل سنچری بنانے والے ہیری بروک صرف ایک رن بناکر رن آؤٹ ہوگئے اور جب حارث رؤف نے جارڈن کاکس کو 6 رنز پر بابراعظم کے ہاتھوں کیچ کرایا تو انگلینڈ کا اسکور 4 وکٹوں پر صرف 52 رنز تھا۔
بین ڈکٹ اور سام کرن کی 93 رنز کی پارٹنرشپ نے صورتحال بہتر کی۔ بین ڈکٹ نے 10 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے105 رنز اسکور کیے۔یہ ان کی ون ڈے انٹرنیشنل میں 5 ویں سنچری ہے۔
سام کرن نے 42 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 5 چوکے شامل تھے۔
اس پارٹنرشپ کے ٹوٹنے کے بعد صرف گس اٹکنسن نے تین چھکوں کی مدد سے 36 رنز ناٹ آؤٹ اور ہینری کروکمب کے ساتھ 40 رنز کی آخری وکٹ کی پارٹنرشپ سے پاکستانی بولرز کے صبر کا امتحان لینے کی کوشش کی جن میں سے دو چھکے حارث رؤف کی لگاتار گیندوں پر تھے۔
پاکستان کی طرف سے کپتان شاہین آفریدی 46 رنز کے عوض 4 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔
انہوں نے 14 میچوں کے بعد دوبارہ ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں 4 وکٹیں حاصل کی ہیں۔آخری مرتبہ انہوں نے اگست 2025 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 51 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
عرفات منہاس جنہیں کپتان شاہین آفریدی حیران کن طور پر 29 ویں اوور میں بولنگ کے لیے لائے تھے 26 رنز دے کر سنچری میکر بین ڈکٹ اور جیمی اوورٹن کی وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
یہ وہی عرفات منہاس ہیں جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف پچھلے میچ میں چھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
رضاء اللہ نے بھی دو وکٹیں 38 رنز کے عوض حاصل کیں۔
حارث رؤف نے ایک وکٹ 55 رنز دے کر حاصل کی لیکن شاداب خان اور صائم ایوب کے ہاتھ ایک وکٹ بھی نہ آسکی۔
پاکستان کو ایک بار پھر اچھا آغاز نہ مل سکا اور فخر زمان صرف 10 رنز بناکر اٹکنسن کی گیند پر سلپ میں اوورٹن کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔اس سیریز کی تین اننگز میں وہ صرف26 رنز بناسکے ہیں۔
صائم ایوب نے ناقص شاٹ سلیکشن پر سلپ میں کیچ دے کر ہنری کروکمب کو پہلی وکٹ دلادی۔
بابراعظم ایک بار پھر بڑی اننگز کی امید مایوسی میں بدل کر 10 رنز پر اٹکنسن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
سعد بیگ اپنی عمدہ بیٹنگ کوایک بار پھر بڑی اننگز میں تبدیل کرنے سے پہلے ہی 32 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ اس اننگز میں ان کے سات چوکے شامل تھے۔ پاکستان کی چوتھی وکٹ 74 رنز پر گری۔
حسن نواز 15 اور عرفات منہاس ایک رن بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور 6 وکٹوں پر 103 رنز تھا اور شکست کے سائے پاکستان ٹیم پر منڈلانے لگے تھے ُاسوقت آخری امید سلمان علی آغا کی شکل میں موجود تھی لیکن وہ بھی 26 رنز بناکر ڈاسن کو دوسری وکٹ دے گئے جو اس سے قبل حسن نواز کو آؤٹ کرچکے تھے۔
شاہین آفریدی 4 رنز بناکر ڈگ آؤٹ میں واپس لوٹ گئے۔ایجبسٹن ٹیسٹ میں 9 چھکے مارنے والے رضاء اللہ ایک چھکے کی مدد سے 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے
شاداب خان نے مقابلہ جاری رکھتے ہوئے 5 چھکوں اور 13چوکوں کی مدد سے 113 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کھیلی ۔ اس سے قبل ان کا بہترین انفرادی اسکور 86 رنز 2022 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ملتان میں تھا۔ انہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کیے ۔
انہوں نے حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ کی شراکت میں80 گیندوں پر 89 رنز کا اضافہ کیا جس میں حارث کاحصہ 19گیندوں پر 7 رنز رہا ۔ حارث رؤف ہی نےہنری کروکمب کو وننگ چوکا لگاکر میچ کا اختتام کیا۔
انگلینڈ کی طرف سے جیمی اوورٹن نے 43 رنز دے کر3 وکٹیں حاصل کیں۔ گس اٹکنسن اور لیئم ڈاسن نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
سہ فریقی کا اگلا میچ 27 اکتوبر کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.